سلسلہ احمدیہ — Page 17
17 سعود اور شہزادہ فیصل ،عراق کے وزیر خارجہ توفیق بک السوید اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسی شخصیات مشن کی مختلف تقاریب میں شرکت کرتیں تو اس کا چرچا بڑے پیمانے پر انگلستان کے پریس میں ہوتا اور یہ بھی ایک رنگ میں ذریعہ تبلیغ بن جاتا۔(۸۷) اگر چه تبلیغی سرگرمیاں زیادہ تر لندن پر مرکوز تھیں مگر پورے ملک میں رفتہ رفتہ کچھ انگریز احمدیت کا پیغام قبول کر رہے تھے۔ان میں آرنلڈ (Arnold) گھرانے کے افراد اور بینکس (Banks) گھرانے کی خواتین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔۱۹۳۹ء میں برطانیہ میں ۱۶ مختلف مقامات پر احمدی موجود تھے جن میں اکثریت انگریزوں کی تھی۔(۹ تا ۱۳) (۱) الفضل ۲۸ اگست ۱۹۳۷ء ص ۲ (۲) الفضل ۱۲۸ اپریل ۱۹۳۹ء ص ۴ The Sunrise April 1 1939 page 5(μ) (۴) الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۳۷، ص۲ (۵)الفضل ۵ جنوری ۱۹۳۹ء ص ۷ (۶) الفضل ۴ جون ۱۹۳۵، ص ۳ The Sunrise March 25, 1939 page 8(2) (۸) الفضل ۲۶ جولائی ۱۹۳۵ ء ص ۱ (۹) سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یه ۱۹۳۴ء ۱۹۳۵، ص ۴۰ ۴۴ (۱۰) سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یه ۱۹۳۷ء۔۱۹۳۸ء ص ۲۶-۳۳ (۱۱) سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۸ء۔۱۹۳۹ء ص۵۳_۶۲ (۱۲) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد بی ص ۸۸-۹۱ The Sunrise December 23,1939 page 22(1) ہنگری: ہنگری وسطی یورپ کا ایک ملک ہے جس کی دو تہائی آبادی رومن کیتھولک ہے۔کہا جاتا ہے کہ تیرہویں صدی سے بہت قبل یہاں پر بلغاریہ سے سات مسلمان آکر آباد ہوئے تھے۔ان کی تبلیغ سے یہاں مسلمانوں کی ایک جماعت بن گئی تھی جو ہنگری کی سرحد پر آباد تھی۔یہ خفی مسلک سے تعلق