سلسلہ احمدیہ — Page 16
16 أَكْبَرُ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله، اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ کی صدائیں بلند ہوتیں تو سننے والے حیران ہوتے کہ ایک انگریز عیسائیت کے ایک بڑے مرکز میں حضرت محمد مصطف یہ کی رسالت کا اعلان کر رہا ہے۔(۲-۳) گویا اس مسجد کا وجود مجسم تبلیغ بن چکا تھا۔۱۹۳۹ء میں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب اس مشن کے انچارج تھے اور تبلیغ کا کام پوری جانفشانی سے جاری تھا۔انفرادی ملاقاتوں اور تبلیغی خطوط کے علاوہ ایک اہم ذریعہ تبلیغ وہ لیکچر تھے جو مبلغ سلسلہ اور دیگر احمدی مختلف مقامات پر دیا کرتے تھے۔مشن ہاؤس میں تبلیغی تقاریر کا اہتمام کیا جاتا۔اس کے علاوہ لندن میں اور لندن سے باہر بہت سے کلبوں سوسائیٹیوں اور درسگاہوں میں جا کر لیکچر دیئے جاتے۔لندن میں ایسے مقامات مخصوص ہیں جہاں ہر آدمی جا کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے۔اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہائیڈ پارک اور تیسہم کا من پارک میں تبلیغی لیکچروں کا اہتمام کیا جاتا اور لوگوں کے سوالوں کے جوابات دیئے جاتے۔اُس دور میں انگریزوں کو حضرت محمد مصطفے ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق انہی نظریات کا علم ہوتا تھا جو چند مغربی مصنفین نے اپنی کتب میں تحریر کئے تھے۔ان میں سے بہت سی تحریریں تعصب سے آلودہ تھیں۔ان کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیئے سیرت النبی عملے کے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ان جلسوں میں صرف مسلمان مقررین ہی نہیں بلکہ کئی عیسائی اہلِ علم بھی نبی اکرم ﷺ کو خراج عقیدت پیش کرتے تھے۔(۵۴) لٹریچر کی اشاعت ہمیشہ سے جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔اس وقت صرف لندن شہر میں چار سو سے زائد کثیر الاشاعت اخبارات کے دفاتر تھے اور دنیا کا ایک بڑا حصہ ان کی تحریروں کے زیر اثر تھا۔مگر انگلستان میں مسلمانوں کا ایک بھی اخبار شائع نہیں ہو رہا تھا۔باوجود تمام مشکلات اور مالی تنگی کے لندن مشن نے ۱۹۳۵ء میں دی مسلم ٹائمنر کے نام سے ایک پندرہ روزہ اخبار شائع کرنا شروع کیا تا کہ مغربی دنیا کے سامنے اسلامی نقطہ نگاہ کو پیش کیا جا سکے (۶)۔اس کے علاوہ مختلف تبلیغی موضوعات اور سیرت النبی ﷺ پر کتا بچوں کی اشاعت سے تبلیغ کو وسعت دی گئی۔برطانوی وزراء اور دیگر اہم شخصیات مشن میں مختلف تقریبات میں شرکت کے لیے آتیں۔اور بہت سے مسلمان لیڈر جب لندن آتے تو انہیں مسجد فضل میں مدعو کیا جاتا۔سعودی سلطنت کے شہزادہ