سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 18 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 18

18 رکھتے تھے اور بسا اوقات دینی علوم حاصل کرنے کے لیئے مسلمان ممالک کا سفر بھی کرتے تھے۔یہ جماعت وہاں پر ۱۳۴۰ء عیسوی تک موجود رہی پھر ایک عیسائی بادشاہ چارلس رابرٹ نے فرمان جاری کیا کہ عیسائیت کے علاوہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے جو لوگ اس کی سلطنت میں رہتے ہیں وہ یا تو عیسائی ہو جائیں یا پھر اس کے ملک سے نکل جائیں۔(۱) اس کے علاوہ گیارہویں صدی اور چودہویں صدی کے درمیان اسماعیلی بھی یہاں آکر آباد ہوتے رہے۔پھر اس کے بعد ایک عرصہ تک یہ ملک ترکوں کی سلطنت کے ماتحت رہا اور اس دور میں بھی یہاں کے لوگوں کا اسلام سے تعارف بڑھا۔پہلے مرکز سلسلہ کی ہنگری میں گل بابا کمیٹی ، بیرن سیگمنڈ ( Baron Zsigmond) اور دیگر لوگوں سے خط و کتابت ہوئی (۲)۔یہ گل بابا ایک بزرگ تھے جن کا مزار ہنگری میں موجود ہے۔اور ہنگری میں آباد ماجر قوم ان سے کافی عقیدت رکھتی ہے۔ان کا حوصلہ افزا رویہ دیکھ کر ۱۹۳۶ء میں چوہدری احمد خان صاحب ایاز کو بطور مبلغ ہنگری بھجوایا گیا۔انہوں نے دارالحکومت بوڈا پیسٹ (Budapest) میں تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔انفرادی تبلیغ کے علاوہ مختلف سوسائیٹیوں میں تقاریر کے ذریعہ دعوت الی اللہ کے کام کو آگے بڑہانا شروع کیا۔اخبارات میں احمدیت کا چرچا ہونے لگا۔اور آہستہ آہستہ سعید روحیں احمدیت میں داخل ہونے لگیں۔اور ان نو احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے کام کا آغاز ہوا۔ان ابتدائی احمدیوں میں مصطفے اربان (Orban) صاحب اور اینگل (Engel) اختر صاحب کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔بیعت کرنے والوں میں ڈاکٹر ، فوجی افسر اور وکیل بھی شامل تھے۔ایک ڈیڑھ سال میں ان کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہوگئی۔ان میں سے زیادہ تعداد پہلے عیسائیت سے وابستہ تھی۔اس وقت ہنگری میں کچھ مسلمان موجود تھے مگر ان کی دینی حالت ابتر تھی۔ان کا مذہبی سربراہ مفتی کہلاتا تھا۔اپنا اثر و رسوخ زائل ہوتا دیکھ کر ان مفتی صاحب نے جماعت کی مخالفت شروع کی مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نائب مفتی محمد اسماعیل صاحب بھی احمدی ہوکر تبلیغ کرنے لگ گئے۔۱۹۳۷ء میں ایاز صاحب نا موافق آب و ہوا کی وجہ سے بیمار ہو گئے اس لیئے حضور کی طرف سے انہیں پولینڈ جانے کا ارشاد ہوا۔مکرم محمد ابراہیم ناصر صاحب کو امریکہ بھجوایا گیا تھا مگر جب انہیں وہاں داخلے کی اجازت نہ ملی تو انہیں ہنگری جانے کا ارشاد ہوا۔