سلسلہ احمدیہ — Page 15
15 ۱۹۳۹ء میں جماعت احمدیہ کی ترقی کا عالمی منظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی تھی کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اور جب آپ کو ایک عظیم الشان موعود بیٹے کی خوش خبری عطا ہوئی تو الہاماً بتایا گیا کہ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔جب جماعت کے قیام کو پچاس سال پورے ہو رہے تھے تو دنیا ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے نظارے دیکھ رہی تھی۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اُس وقت مختلف ممالک میں جماعت کی ترقی کا سفر کن مراحل سے گذر رہا تھا۔برطانیہ: لندن مشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے صحابہ کو خدمات کا موقع ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب میں سے حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب، حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب، حضرت ملک غلام فرید صاحب اور حضرت مولانا عبد الرحیم در د صاحب نے بطور مبلغ اس مشن میں کام کیا۔ان کے علاوہ حضرت مولانا شیر علی صاحب بھی انگریزی ترجمہ قرآن کے سلسلے میں لندن مشن میں مقیم رہے اور تبلیغی سرگرمیوں میں فعال حصہ لیتے رہے۔۱۹۲۶ء میں مسجد فضل لندن کی تکمیل کے ساتھ اس مشن کا ایک نیا دور شروع ہو چکا تھا۔جس شہر میں لا تعداد گر جے موجود تھے ، وہاں یہ چھوٹی سی مسجد ایک انفرادی شان رکھتی تھی۔نہ صرف مقامی شہریوں اور برطانیہ کے دوسرے مقامات سے آنے والوں کے لئے اس کا وجود کشش کا باعث تھا بلکہ جولوگ بیرونی ممالک سے یہاں سیر و سیاحت کے لئے آتے ان میں سے بہت سے مسجد کو دیکھنے کے لیئے بھی آجاتے اور اسلام کی تبلیغ سے مستفید ہوتے۔مختلف سوسائیٹیوں اور کلبوں کے ممبر بھی گروپوں کی صورت میں یہاں آتے اور دلچسپی کے ساتھ ساتھ سلسلہ کی تاریخ اور عقائد کا ذکر سنتے۔(۱) جب یہاں سے ایک انگریز احمدی بلال مثل (Nattal) کی آواز میں اللهُ أَكْبَرُ اللهُ