سلسلہ احمدیہ — Page 228
228 ہونے والے لوگ ہر سال اس یقین سے معمور ہوتے چلے جاتے تھے کہ ہم دنیا پر غالب آنے والے ہیں۔آپ کی مالی حیثیت بھی ان سے زیادہ ہے۔آپ کی دنیاوی تعلیم بھی ان سے زیادہ ہے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ لوگ ان لوگوں جیسا ایمان پیدا کریں۔حضور نے فرمایا کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارا خدا سب دنیا کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کا ذرہ ذرہ اس کا مملوک اور غلام ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ دنیا کی تمام بادشاہتیں اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتیں جتنا ایک مچھر ایک ہاتھی کے مقابلہ میں حیثیت رکھتا ہے۔پھر آپ کے حوصلوں کو پست کرنے والی کیا چیز ہے؟ صرف ارادے کی کمی ہے ورنہ نشانوں کی کوئی کمی آپ کے پاس نہیں ہے۔آج آپ لوگ یہ عہد کر لیں کہ ہم احمدیت کو نئے سرے سے پھر ہندوستان میں قائم کریں گے۔اس کے گوشے گوشے میں احمدیت کا پیغام پہنچادیں گے۔اس کے خاندان خاندان سے احمدیت کے سپاہی نکال کر لائیں گے۔اس کی قوم قوم کو احمدیت کا غلام بنا کر چھوڑیں گے اور یہ کام مشکل نہیں ہے۔حق ہمیشہ غالب ہوتا ہے اور ناراستی ہمیشہ مغلوب ہوتی ہے۔اُس دور میں جب قادیان کے گرد کئی سو میل تک کوئی جماعت نہیں تھی۔احمدی بڑی تعداد میں ہجرت کر کے پاکستان جاچکے تھے۔دور دور کی جماعتوں کے لئے قادیان آنا جانا تو ایک طرف رہا رابطہ رکھنا بھی مشکل تھا۔یہ بات ناممکن نظر آرہی تھی کہ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی جماعت ایک نئی شان سے اُٹھے گی۔ہم اپنے وقت پر جائزہ لیں گے کہ وقت آنے پر یہ انہونی ہو کر رہی۔اور دنیا نے خدا تعالیٰ کے فضلوں سے یہ نظارہ دیکھا کہ حضور کی خواہش کے مطابق ہندوستان کی مختلف اقوام سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ احمدیت کی آغوش میں پناہ لیتے چلے گئے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔ہندوستان میں انفضل پر پابندی اور دونوں ممالک کے لئے حضور کا پیغام: نومبر ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کے کئی صوبوں میں الفضل کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔آخر میں یہ صورتِ حال ہو گئی کہ سوائے دارالحکومت دہلی باقی کے باقی سارے ہندوستان میں الفضل کے