سلسلہ احمدیہ — Page 229
229 داخلے پر پابندی لگ گئی۔جب ہندوستان کی مرکزی حکومت سے اس بارے میں احتجاج کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مرکزی حکومت نے الفضل کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا، جہاں تک صوبائی حکومتوں کا تعلق ہے تو وہ ان معاملات میں خود مختار ہیں۔جب ہندوستان کے صوبوں نے یہ پابندی لگانی شروع کی تو جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ الفضل میں کسی سیاسی موضوع پر مضمون شائع نہ کیا جائے لیکن اس کے باوجود دوسرے صوبوں میں بھی الفضل پر پابندیاں لگتی رہیں۔چنانچہ جماعت نے الرحمت کے نام سے ایک اور اخبار جاری کیا جائے تا کہ ہندوستان میں رہنے والی جماعتوں کی تربیت اور تنظیم میں کوئی روک نہ پیدا ہو۔اس کے پہلے شمارے میں حضور کا پیغام شائع ہوا۔اس پیغام میں حضور نے تحریر فرمایا د ہمیں نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی ہندوستانیوں نے مسٹر گاندھی کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ ہر ہندو اور سکھ اور غیر مسلم کو جو پاکستان میں رہتا ہے پاکستان کا مخلص اور وفادار شہری ہو کر رہنا چاہیے اور کئی مسلمانوں نے قائد اعظم کے ان اعلانات کو بھلا دیا ہے کہ ہر مسلمان کو جو ہندوستان میں رہتا ہے ہندوستانی حکومت کا مخلص اور وفا دار شہری ہو کر رہنا چاہئیے۔ان لیڈروں کے منشا کے خلاف کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی غیر مسلم کو پاکستان میں رہنا ہی نہیں چاہئیے یا یہ کہ کسی مسلمان کو ہندوستان میں رہنا ہی نہیں چاہئیے۔۔۔۔۔اگر گاندھی جی اور قائد اعظم کے بیانات نہ بھی ہوتے تب بھی یہ جذ بہ اور روح نہایت افسوسناک اور مذہب اور اخلاق کے خلاف تھی۔مگران دوز بر دست ہستیوں کے اعلانات کے خلاف اس قسم کے جذ بہ کا پیدا ہونا نہایت ہی تعجب انگیز اور افسوسناک ہے۔ہندوستان کی موجودہ دو علاقوں میں تقسیم بعض مصلحتوں کے ماتحت ہوئی تھی۔ان مصلحتوں کو زیادہ کھینچ تان کر اس مسئلہ کو کوئی اور شکل دینا کسی صورت مین جائز نہیں ہو سکتا۔جب تقسیم اٹل ہوگئی تھی تو میں نے اُس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ی تقسیم ہونی ہی ہے تو پھر کوشش کرنی چاہئیے کہ پاکستان اور ہندوستان کا دفاع ایک ہو۔ہر پاکستانی کو ہندوستانی شہریت کے حقوق حاصل ہوں اور ہر ہندوستانی کو پاکستانی شہریت کے حقوق حاصل ہوں۔دونوں ملکوں کے باشندوں کو ایک دوسرے کے ملک میں