سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 227 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 227

227 میں نظر آنے لگی۔ان خاندانوں کی چند نو جوان لڑکیوں سے غیر شادی شدہ درویشوں کے رشتے طے ہوئے اور ان کی شادی کی تقریب نہایت سادگی سے قادیان میں منائی گئی۔لنگر خانہ سے جو کھانا ملتا وہی سب مل کر کھا لیتے ، ایک میٹھا اس تقریب کی وجہ سے زائد پکا لیا جاتا۔بس اس طرح دعوتِ ولیمہ ہو جاتی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے یہ ارشاد بھی موصول ہوا کہ غیر شادی شدہ در ولیش ہندوستان میں شادی کریں۔ان درویشوں کے ساتھ تو ان کے بزرگ بھی نہیں تھے۔آخر سلسلہ جنبانی شروع ہو تو کس طرح۔آخر ایک بزرگ حضور کے خط کی مصدقہ نقل لے کر نکلے اور پنجاب سے نکل کر قریب کی جماعتوں میں گئے اور وہاں حضور کا خط دکھا کر تحریک کی یہ گھرانے اپنی بیٹیوں کے رشتے درویشوں میں کریں۔یہ درویش تو محض مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے دھونی رما کر بیٹھے ہوئے تھے۔نہ کوئی ذریعہ آمد ، نہ کوئی جائیداد، نہ اس بات کا کوئی امکان کہ یہ دنیا میں نکل کر اپنی حالت بہتر کریں گے۔اس پر مستزاد یہ کہ ہر وقت خطرات میں گھری ہوئی زندگی گزار رہے تھے۔اس کے باوجود بہت سے احمدی گھرانوں نے اپنی بچیوں کے رشتے قادیان کے درویشوں سے کر دیئے۔اور اس طریق پر بہت سے درویشوں کے گھر آباد ہوئے۔اس کے علاوہ کچھ درویشوں کے اہل وعیال پاکستان سے ہجرت کر کے ہندوستان میں آباد ہو گئے۔اب رفتہ رفتہ قادیان کی رونقیں کسی حد تک بحال ہورہی تھیں۔قادیان میں ۱۹۴۹ء کا جلسہ سالانہ : ان حالات کے ذکر کے بعد ہم ۱۹۴۹ء کے آخر کی طرف واپس آتے ہیں۔وقت آہستہ آہستہ گذر رہا تھا۔دسمبر میں ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ کے دن آگئے۔اس جلسے میں ساڑھے تین سو کے قریب درویشوں کے علاوہ پاکستان سے آئے ۹۷ افراد نے بھی شرکت کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے پیغام میں ہندوستان کی جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ کے دل بے شک اس صدمہ سے چور ہوں گے کہ ایک بڑی جماعت کٹ کر ٹکڑے ہو گئی ہے۔اور آپ ہندوستان جیسے وسیع ملک میں تھوڑے سے رہ گئے ہیں لیکن آپ کی تعداد ان لوگوں سے زیادہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے زمانے میں ابتدائی جلسوں میں شریک ہوئے تھے۔لیکن ان شروع کے سالوں میں قادیان میں جمع