سلسلہ احمدیہ — Page 221
221 سے ایک جہاندیدہ شخص نے انہیں سمجھایا کہ تشدد کا راستہ نہ اختیار کرو۔یہ چند لوگ جو یہاں ٹہرے ہیں وہ بھی تو کچھ کر گزرنے کا عزم لے کر ٹھہرے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ تم چند سو کو مارنے کے لئے نکلو اور اپنے دو چار ہزار آدمی مروا کر تمہیں پتہ چلے غلطی کر بیٹھے ہو۔اور یہ لوگ سرکار کی اجازت سے شہرے ہیں۔ایسی صورت میں سرکار کا عتاب بھی تم لوگوں پر پڑے گا۔یہ سن کر سب سوچ میں پڑ گئے۔بالآخر یہ طے ہوا کہ ایک تو ان لوگوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔جب ان کو ضروریات زندگی نہیں ملیں گی تو خود ہی بھاگ جائیں گے۔دوسرے حکومت کے پاس ان کی شکایتیں کی جائیں کہ ان لوگوں نے بہت سا اسلحہ چھپا رکھا ہے۔چنانچہ قادیان کے سب باشندوں نے مظلوم درویشوں کا بائیکاٹ کر دیا۔اور یہ افواہیں بھی پھیلائی گئیں کہ ننکانہ صاحب میں مقیم سارے سکھوں کوموت کی گھاٹ اُتار دیا گیا تا کہ قادیان میں آباد سکھوں میں احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلے۔کوئی دوکاندار کھانے پینے کی اشیاء درویشوں کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا تھا۔حتی کہ خاکروب بھی صفائی کے لئے نہیں آتے تھے۔نہ ہی چکیاں آٹا پیس کر دیتی تھیں۔پسا ہوا آٹا چند روز میں ختم ہو گیا۔پھر وہی گندم ابال کر کھانے کا نسخہ کام آیا۔بس فرق یہ تھا کہ اس مرتبہ اس میں ڈالنے کے لئے نمک مرچ میسر تھا۔چار پانچ بھینسیں احمدیوں کی چھوڑی ہوئی موجود تھیں۔ان کا دودھ پینے کے کام آتا تھا۔قادیان میں احمدیوں کے خلاف اس قدر تعصب پھیلایا گیا تھا کہ ایک مرتبہ صوبائی وزیر سردار ایشر سنگھ قادیان آئے اور اُنہوں نے سکھوں اور ہندؤں کے مجمع سے خطاب کیا۔اس موقع پر ایک مقرر نے کہا کہ ہندوستان کے ساڑھے چار کروڑ مسلمانوں کا تو ہم بندوبست کر لیں گے آپ مہربانی کر کے ان تین سو تیرہ سے ہمیں نجات دلا دیں۔ایک طرف تو بائیکاٹ سے درویشوں کے لئے مسائل پیدا کئے جارہے تھے اور دوسری طرف حکومت کے پاس مسلسل احمدیوں کے خلاف شکایتیں کی جا رہی تھیں۔پہلے گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر اور قادیان کے مجسٹریٹ کے پاس شکایت کی کہ ان لوگوں کے پاس اسلحہ ہے اس لئے ہمیں ان سے شدید خطرہ ہے۔ان الزامات کی بازگشت دہلی تک سنائی دی۔آخر مرکزی حکومت نے اپنے ایک مرکزی وزیر گیانی کرتار سنگھ صاحب کو تحقیقات کے لئے قادیان بھجوایا۔وہ ایک وفد کے ساتھ قادیان آئے شہر والوں سے بھی ملے اور جماعت کے افسران سے بھی ملاقات کی۔اور بعض مقامات مثلاً