سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 220 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 220

220 صورتِ حال کے پیش نظر بہشتی مقبرہ کے ارد گرد دیوار بنانا اب ناگزیر ہو گیا تھا۔اس لئے درویشوں کی اکثریت اس کام پر جت گئی۔سورج کی روشنی ظاہر ہونے سے لے کر غروب آفتاب تک یہ کام جاری رہتا تھا۔خاص طور پر جنوبی دیوار کو بہت مضبوط رکھا گیا۔جنوب مغربی اور جنوب مشرقی کونوں پر حفاظتی عملہ کے قیام کے لئے دو منزلہ کمرے بھی بنائے گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار اور قریب کی قبروں کے ارد گرد جو چار دیواری پہلے سے موجود تھی اس کے شمال مشرقی کونہ پر بھی دو منزلہ حفاظتی کمرے تعمیر کیے گئے۔جو مکانات جماعت کے قبضہ میں تھے اس کے سامان کو مستقبل کی ضروریات کے لئے محفوظ کرنے کا اہم کام فوری توجہ کا تقاضہ کرتا تھا۔اس سامان میں کھانے پینے کی اشیاء مثلاً آٹا ، چاول، گھی، اور تیل وغیرہ بھی شامل تھے۔جلسہ سالانہ کے لئے ذخیرہ کی گئی گندم کی پانچ ہزار بوری بھی موجود تھی اور مختلف گھروں سے ایک ہزار بوری بھی جمع کی گئی۔گندم کے ذخیرے کو دوائی ڈال کر محفوظ کیا گیا۔گندم اور دیگر اشیاء خورد و نوش مرزا گل محمد صاحب کے مکان میں جمع کی گئیں۔جو مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکانات کے بالکل قریب تھا۔ادویات وغیرہ مرزا رشید احمد صاحب کے مکان میں سٹور کی گئیں۔اور گھروں کا دیگر سامان فہرستیں بنا کر مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ میں جمع کر دیا گیا۔بارشوں کی کثرت اور دیکھ بھال کی کمی کے باعث بعض مکانات گر گئے تھے اور جن کی حفاظت نہیں کی جاسکتی تھی وہ مکانات از خود گرا دئے گئے اور تعمیر کا جو سامان کارآمد ہوسکتا تھا اسے مستقبل کے لئے محفوظ کر لیا گیا۔اس کام پر بھی جو عملہ مقرر تھا اُس نے یہ مشکل کام دو ماہ کے اندر مکمل کر دیا۔ایک طرف درویش ان کاموں میں مصروف تھے اور دوسری طرف مخالفین اپنے طور پر ان کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ یہ چند لوگ بھی یہاں سے بھاگ جائیں۔جب ۱۶ نومبر کو آخری کنوائے بھی روانہ ہو گیا تو ان کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی۔جو ہندو اور سکھ پاکستان سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے انہیں احمدیوں کے خلاف بھڑکایا گیا کہ وہ بھی احمدیوں کے خلاف حملے کرنے میں اُن کا ساتھ دیں۔اور مضافات کے لوگوں کو بھی اس سکیم میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جب ایک رات اُن کی میٹنگ ہوئی تو ان میں