سلسلہ احمدیہ — Page 222
222 مسجد اقصیٰ کے سٹور بھی دیکھے۔پھر شہر والوں کو کہا کہ آپ لوگ خواہ مخواہ شور کرتے ہیں۔آپ کی شکایت میں کوئی وزن نہیں ہے۔بھلا ان چند افراد سے بھارت جیسے بڑے ملک کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔اگر ان کے پاس ایک ایک توپ بھی ہو تو بھی یہ لوگ بھارت کی لاکھوں کی فوج کے لئے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے۔گیانی کرتار سنگھ صاحب نے یہ شرافت بھی دکھائی کہ احمدیوں کے حالات سن کر انہیں ایک آٹا پینے والی چکی بھی الاٹ کر دی۔اس طرح آٹے کا مسئلہ تو حل ہو ا۔جلد ہی بائیکاٹ کی مہم بھی بعض شریف ہندؤں کی مداخلت کی وجہ سے دم توڑ گئی۔نور ہسپتال تو جماعت کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔کسمپرسی کے حال میں ایک احمد یہ شفا خانہ قادیان میں کام کر رہا تھا۔جس میں پہلے ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب اور ان کے پاکستان جانے کے بعد مکرم ڈاکٹر کیپٹن بشیر احمد صاحب کام کرتے رہے۔(۲۹) تقسیم ملک کے بعد پہلا جلسہ سالانہ اس پس منظر میں، دسمبر کے آخر میں جلسہ سالانہ کے ایام آگئے۔جب حضرت مسیح موعود نے جلسہ سالانہ کا آغا ز فرمایا تو جلسہ مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوتا تھا۔پھر جب آنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی تو جلسہ باہر منتقل کرنا پڑا۔ہجرت سے معاً پہلے جلسے دارالعلوم میں منعقد ہو رہے تھے۔اس جلسے کے موقع پر نہ صرف قادیان بلکہ مشرقی پنجاب کی اکثر جماعتیں پاکستان ہجرت کر چکی تھیں۔اور اتنے خراب حالات میں ہندوستان کی باقی جماعتوں کے لئے جلسے کے لئے قادیان آنا ممکن نہیں تھا۔اب ایک بار پھر یہ جلسہ مسجد قصیٰ میں منعقد کیا جا رہا تھا۔اور اس میں صرف ۳۱۵ نفوس شامل تھے۔ان میں ۲۵۳ درویش اور ۶۲ ہندو اور سکھ مہمانوں کے علاوہ سات خواتین اور ایک بچی نے اس جلسہ میں شرکت کی۔اس کے آغاز پر حضور کا پیغام امیر مقامی حضرت مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب نے پڑھ کر سنایا۔اس میں حضور نے درویشان قادیان کو ارشاد فرمایا جو لوگ اس وقت ہمارے مکانوں اور ہماری جائداد پر قابض ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا قبضہ قبضہ مخالفانہ ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ مجبور اور معذور ہیں۔وہ لوگ بھی اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور ان کی جائدادوں سے انہیں