سلسلہ احمدیہ — Page 219
219 پیاری ہے۔لیکن حالات کے تقاضہ سے ہم یہاں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔اس لئے ہم تجھ پر سلامتی بھیجتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔اس کے بعد اس کرب والحاح سے دعا مانگی گئی۔دعا کے شروع ہوتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھا یا الہی فضل کر اسلام پر اور خود بیچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار یہ شعر سنا تھا کہ دعا میں ایک خاص رفت اور سوز پیدا ہو گیا۔شدت گریہ سے کئی افراد کی چینیں نکل رہی تھیں۔وہاں پر موجود غیر احمدی اور غیر مسلم ملٹری کے لوگ حیرت زدہ تھے کہ چار ماہ موت کے منہ میں رہنے کے بعد بھی رخصت ہوتے ہوئے ان کی یہ حالت ہو رہی ہے۔پرسوز لمبی دعا کے بعد قافلہ روانہ ہوا اور درویشان قادیان مخالفین کی قہر آلود نظروں میں اپنے علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔( ۴۴ ، ۱۰ ، ۲۸، ۴۵، ۴۲،۴۱، ۲۹) قادیان میں دور درویشی کا آغاز یہاں سے قادیان کے دور درویشی کا آغاز ہوتا ہے۔جو خوش نصیب قادیان میں رہ گئے ، ان کے اندر ایک عظیم روحانی تغیر پیدا ہونا شروع ہوا۔ان کے ایام خدمت دین ،نمازوں، نوافل ، تلاوت اور ذکر الہی سے معمور تھے۔رات کو روزانہ مغرب سے فجر تک کر فیور ہتا تھا اور یہ سلسلہ مارچ ۱۹۴۸ء تک جاری رہا۔ان یام میں نماز فجر اور عشاء بارہ مقامات پر ہوتی تھی۔اور ان سب مقامات پر اذان بھی ہوتی تھی تاکہ معلوم ہوتا رہے کہ خیریت ہے۔احمدیوں کے قبضے میں باقی علاقے کو چھ حصوں میں تقسیم کر کے جو مکانات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے ، ان کی دیواروں میں سوراخ کر دیئے گئے تھے تا کہ اگر رات کو کسی مقام پر نا خوشگوار واقعہ ہوتو وہاں پر گلیوں اور بازاروں سے گذرے بغیر مدد پہنچائی جاسکے۔مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اور قادیان میں موجود درویشوں کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لئے فوری طور پر کچھ کام شروع کئے گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے تحت قادیان کے اردگرد ایک کچی دیوار بنائی گئی۔جو گلیاں کھلی تھیں، انہیں اس دیوار کے ذریعہ بند کیا گیا۔یہ دیوار دو فٹ چوڑی اور آٹھ فٹ لمبی تھی۔موجودہ