سلسلہ احمدیہ — Page 218
218 بڑے حملے کی ناکامی کے بعد بلوائیوں کو اس طرح کی جسارت تو نہیں ہوئی۔البتہ اکتوبر کے شروع میں مظالم کا سلسلہ حسب سابق جاری رہا۔جو احمدی کر فیوختم ہونے کے بعد اپنے گھروں کی حالت دیکھنے جا رہے ہوتے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر گولیاں چلانا شروع کر دیتے۔اور چن کر احمد یوں کو نشانہ بنایا جاتا، تا کہ کوئی مزاحمت کرنے والا نہ رہے۔سات سے زائد احمدیوں کو اس طرح شہید کر دیا گیا۔دوکا نہیں لوٹی گئیں ،احمدیوں سے بیگار لیا گیا، اسکول اور نور ہسپتال پر جبراً قبضہ کر لیا گیا۔جماعت کی لائیبریری سر بمہر کر دی گئی اور بعض مساجد کے مینار منہدم کر دئے گئے۔۱۰ اکتوبر کو مسلمان ملٹری بھی قادیان پہنچ گئی اور کشمیر کی جنگ کی وجہ سے قادیان کے قریب متعین ملٹری کی بھاری اکثریت بھی وہاں سے منتقل ہو گئی۔اس کے بعد بلوائیوں کو پہلے کی طرح کا حوصلہ نہیں ہوا۔اور جانے والے قافلوں کی تلاشی کا ظالمانہ سلسلہ بھی بند ہو گیا۔(۳۱،۲۷،۲۶، ۳۵ تا ۴۳،۳۹) جماعت احمدیہ کا مؤقف یہی تھا کہ قادیان کی تمام احمدی آبادی کو وہیں پر رہنا چاہیئے لیکن حکومتی افسران کا کہنا تھا کہ تین سو کے قریب احمدی مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے وہاں پر ٹھہرے رہیں اور باقی نقل مکانی کر کے پاکستان چلے جائیں۔چنانچہ جماعت کے تین سو کے قریب مرد وہاں پر حفاظت کے فرائض سر انجام دینے کے لئے موجود رہے اور باقی قافلوں کی صورت میں پاکستان منتقل ہو گئے۔حفاظت مرکز کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی۔نومبر اور دسمبر میں بھی مقامی افسران کی طرف سے ہراساں کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔مگر اب بلوائیوں کے زور میں کمی آتی چلی جا رہی تھی۔اور اکثر احمدی آبادی کو ویسے ہی پاکستان بھجوا دیا گیا تھا۔اس سلسلے میں آخری قافلہ ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو قادیان سے روانہ ہوا۔اس قافلے میں مکرم مولانا جلال الدین صاحب سے شمس اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی شامل تھے۔اس قافلے کی روانگی کے وقت جو ضبط کر سکتے تھے وہ ضبط کر رہے تھے مگر ان کی سرخ آنکھیں ان کے راز کو فاش کر رہی تھیں۔جن کو ضبط کی طاقت نہ تھی وہ اس طرح بلک بلک کر روتے تھے جس طرح کوئی بچہ اپنی ماں سے جدا ہوتے وقت روتا ہے۔رخصت ہوتے وقت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے نہایت درد بھرے الفاظ میں کہا اے قادیان کی مقدس سرزمین ! تو ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ