سلسلہ احمدیہ — Page 217
217 حالات بدلنا شروع ہوتے ہیں: اب حکومتی اداروں کو بھی احساس ہوتا جا رہا تھا کہ قادیان پر ہاتھ ڈال کر وہ خود بدنام ہو رہے ہیں۔اکتوبر کے شروع میں گاندھی جی ، وزیر اعظم پنڈت نہرو اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل کو قادیان کے حالات کے متعلق رپورٹیں بھجوائی گئی تھیں مگر ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔حضور نے گاندھی جی سے اپیل کی کہ دہلی میں فسادات رکوانے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔لیکن دہلی تو سب کی نظروں میں ہے اس لئے اگر وہ مشرقی پنجاب آ کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے فسادات رکوانے کی کوشش کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔اس کے جواب میں گاندھی جی نے لکھا کہ جو کام میں پنجاب میں کر سکتا ہوں وہی یہاں کر رہا ہوں۔اگر کر سکا تب ہی آگے بڑھنے کی بات ہوگی۔اب قادیان کے حالات کا نوٹس لینا ضروری ہو گیا تھا۔۲۱ اکتوبر کو مردولا سارا بھائی Mircula Sarahbhai) جو پنڈت نہرو کی نمائیندہ کی حیثیت سے پناہ گزینوں اور نقل مکانی کرنے والوں کے لئے کام کر رہی تھیں، کرشنا مورتی کے ہمراہ قادیان آئیں۔اور حالات کا جائزہ لیا۔پھر ۱۲۳ اکتوبر کو جنرل تھمایا ایک بار پھر قادیان آئے۔اس مرتبہ ان کے ہمراہ بنگال کے مشہور مسلم لیگی لیڈر حسین شہید سہر وردی ( جو بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے ) اور گاندھی جی کے نمائیندے ڈاکٹر ڈنشا مہتا بھی تھے۔انہوں نے ایک بار پھر قادیان میں ہونے والے مظالم کا جائزہ لیا۔آخر میں جنرل تھمایا نے ہنس کر کہا میں تو اب Fed up ہو چکا ہوں اور قادیان کے معاملے میں تو اب گھبرا گیا ہوں۔I want to wash my hands off Qadian میں قادیان کے معاملے سے اپنے ہاتھ دھونا چاہتا ہوں )۔حسین شہید سہروردی صاحب نے ہنس کر کہا No they wont let you, They will Cling to you( نہیں یہ تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے، یہ تم سے چھٹے رہیں گے )۔اس وفد نے وعدہ کیا کہ سارے حقائق وزیر اعظم کو بتائے جائیں گے اور تجویز کیا کہ قادیان میں ڈھائی تین سو آدمیوں کو رہنے دیا جائے ان کی حفاظت کا انتظام کر دیا جائے گا۔اس کے بعد مقامی حکام کا یہی اصرار رہا کہ مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے یہاں تین سو کے قریب احمدی رہ جائیں اور باقی پاکستان منتقل ہو جائیں۔