سلسلہ احمدیہ — Page 10
10 مکرم شیخ مبارک صاحب کچھ ماہ کے لیے ٹورا میں مقیم تھے۔ان مخالفین نے مکرم شیخ صاحب اور دیگر احمدیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے شروع کر دیے۔پولیس کا ماتحت عملہ جس میں غیر احمدی پنجابی اور بنگالی ہندو بھی شامل تھے شرارت کرنے والوں سے مل گیا۔مقامی افسران نے بھی مخالفانہ رویہ اختیار کر لیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ماتحت عدالتوں نے احمدیوں کے خلاف فیصلے کیے۔مفسدوں نے اس عارضی کامیابی پر بغلیں بجانی شروع کیں۔راہ چلتے احمدیوں پر استہزاء کیا جاتا اور انہیں گالیاں دی جاتیں۔احمدیوں کی نعشوں کو قبرستانوں میں دفن کرنے سے انکار کیا جانے لگا۔کئی احمدی والدین کی اولا د نے ان سے ترک تعلق کر لیا۔بہت سے افسران ان مخالفین کی پیٹھ ٹھونک رہے تھے حتی کہ کچھ بے قصور احمدیوں کو پولیس نے زدو کوب کیا۔اس ماحول میں عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی گئی۔اعلیٰ عدالتوں نے ماتحت عدالتوں کی کارروائی کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے ان کے اکثر فیصلوں کو منسوخ کر دیا، جس سے معاندین کا غیظ و غضب کچھ سرد ہو گیا۔جہاں اس فتنہ پردازی سے بہت سے لوگ اس بات سے ڈر گئے کہ وہ احمدیوں سے کسی قسم کا رابطہ رکھیں۔وہاں رفتہ رفتہ مقامی لوگوں میں سعید روحوں پر حقیقت آشکار ہونی شروع ہوئی اور مشرقی افریقہ میں یہ اعزاز سب سے ٹیو را کو ہی حاصل ہوا کہ وہاں پر رفتہ رفتہ مقامی افراد جماعت میں داخل ہونے لگے۔اور اردگرد کے دیہات میں بھی ایک ایک کر کے متعدد افراد نے احمدیت قبول کی۔انہی عوامل کی وجہ سے پہلا با قاعدہ دار التبلیغ شورا میں ہی قائم کیا گیا۔احمدیت قبول کرنے والے ان احباب میں سے بعض بزرگان ایسے تھے جنہوں نے تمام دنیاوی کام چھوڑ کر کل وقتی طور پر خدمت دین شروع کر دی۔تمام علاقہ مخالفت پر کمر بستہ تھا مگر وہ استقلال سے اپنے کام میں منہمک رہے۔جماعتی حالات کی وجہ سے ان مخلصین کو قلیل سا گزارا ملتا مگر وہ قناعت اور شکر سے گذارا کرتے۔یہ بزرگان احمد یہ سکول میں پڑھاتے۔اپنے احمدی بھائیوں کو دینی تعلیم دیتے اور ان کی تربیت کرتے۔اور نا مساعد حالات کے باوجود علاقہ میں تبلیغ کرتے۔شیخ صالح صاحب کی اہلیہ ڈچ نسل کی تھیں اور جنوبی افریقہ سے آئی ہوئی تھیں۔انہوں نے بھی وقف کی روح کے ساتھ آنریری طور پر کام شروع کیا۔اور اس طرح عورتوں میں تبلیغ اور تربیت کا کام بہتر طریق پر ہونے لگا اور کافی تعداد میں عورتیں بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئیں۔۱۹۳۶ء میں ناجم ابن سالم اسی مجاہدانہ حالت میں اپنے مولا کے حضور حاضر ہو