سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 11 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 11

11 گئے۔اور ۱۹۳۹ء میں شیخ صالح صاحب کی اہلیہ کی ملیریا سے وفات ہو گئی۔اس طرح یہ وجود فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ (۲۹) کے مصداق ٹھہرے۔خواہ زندگی عسر سے گذرے یا آسانی سے بسر ہو۔ایک دن تو اس دنیا سے جانا پڑتا ہے۔لیکن مشرقی افریقہ کے ان ابتدائی بے نفس مجاہدین نے آنے والی نسلوں کے لئے ایک پیارا نمونہ چھوڑا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لئے مشعلِ راہ رہے گا۔(۳۰ تا ۳۳) سواحیلی زبان مشرقی افریقہ میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔کینیا تنزانیہ ، یوگنڈا اور کونگو کے باشندوں کی بڑی تعداد اپنے اپنے قبائل کی زبانوں کے علاوہ سواحیلی زبان کو استعمال کرتی ہے۔عربوں سے اختلاط کی وجہ سے اس زبان پر عربی کا اثر نمایاں ہے۔باوجود اس کے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس زبان کو استعمال کرتی تھی لیکن اب تک افادہ عام کے لئے اس زبان میں اسلامی لٹریچر شائع کرنے کے لئے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی تھی اور مسلمانوں کی بھاری اکثریت اسلامی تعلیمات سے بالکل بے خبر تھی۔جبکہ دوسری طرف عیسائی مشنری بڑے پیمانے پر اس زبان میں اپنا لٹریچر شائع کر رہے تھے اور اس سے ان کی تبلیغی مساعی کو بہت فائدہ پہنچ رہا تھا۔ان عوامل کی وجہ سے جماعت نے سواحیلی میں اپنا لٹریچر شائع کرنا شروع کیا۔اور جنوری ۱۹۳۶ء سے اس زبان میں Mapenzi Ya Mungu کے نام سے ایک رسالہ کا اجراء کیا۔جب اس جریدے کے ذریعہ صحیح اسلامی تعلیمات عوام الناس تک پہنچنا شروع ہوئیں اور عیسائی مشنریوں کے اعتراضات کا مدلل جواب شائع ہونا شروع ہوا تو یہ صورتِ حال عیسائی مشنریوں کے لئے بہت پریشان کن تھی۔اب تک وہ ایسی جنگ لڑ رہے تھے جس میں عملاً ان کے مد مقابل کوئی نہیں تھا۔لیکن اب علمی دلائل سے ان کا مقابلہ کیا جارہا تھا۔چنانچہ اس موقع پر رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے کھل کر مخالفت کا آغاز ہو گیا۔پہلے تو ان کے رسالے Rafiki Yetu نے یہ کہہ کر عیسائیوں کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کی کہ احمدیوں کے رسالے میں ان کے مذہب کو برا کہا جاتا ہے تا کہ عیسائی اس کو پڑھنے سے گریز کریں۔لیکن ایک سال تک اس رسالے میں کفارہ، واقعہ صلیب، الوہیت مسیح، قبر مسیح جیسے موضوعات پر علمی مضامین شائع ہوتے رہے ،رسالے کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا رہا اور جب ایک عیسائی نے حضرت عیسی کی فضیلت کے متعلق کتاب ”نبی معصوم“ شائع