سلسلہ احمدیہ — Page 9
ایک احمدی سیٹھ عثمان یعقوب صاحب نے پندرہ ہزار شلنگ کا انعام اس شخص کے لئے رکھا ہوا تھا جو قرآنِ مجید سے حیات مسیح کی تائید میں ایک آیت ہی پیش کر سکے۔لال حسین اختر صاحب کے پہنچنے پر مخالفین نے جوش میں آکر اشتہار دیا کہ پندرہ ہزار شلنگ کا چیک پیش کرو اور آیت دیکھ لو۔جماعت نے اپنے دو نمائیندوں کو جامع مسجد ان کے جلسے میں چیک دے کر بھجوا دیا۔انہوں نے وہاں اعلان کیا کہ یہ پندرہ ہزار کا چیک ہے آیت دکھا کر یہ چیک وصول کر لو۔لوگ ہکا بکا رہ گئے کہ مولوی کوئی آیت پیش نہ کر سکے۔اور حاضرین پر ظاہر ہو گیا کہ قرآنِ مجید میں حیات مسیح کا کوئی ذکر نہیں۔(۱۸) مخالفین کے لئے یہ صورت حال پریشان کن تھی۔دلائل اور مناظروں سے ان کی دال گلتی نظر نہیں آرہی تھی۔احمدیت کے خلاف گندی تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور ایسے غلیظ اشتہارات شائع کئے گئے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ذاتِ اقدس کے خلاف گند اچھالا گیا۔۔اس سے بھی دل نہیں بھرا تو احمدیوں کا بائیکاٹ کرنے کی مہم شروع کر دی اور کینیا کے بہت سے شہروں میں احمدیوں کا بائیکاٹ کر دیا گیا (۲۶)۔ان اوچھے ہتھکنڈوں سے لیس ہو کر لال حسین اختر صاحب یوگنڈا پہنچے۔جنـجـہ میں انجمن حمایت اسلام کے مقامی سیکریٹری عبدالغفور صاحب انہیں وہاں بلانے کے محرک تھے۔مگر انہوں نے بائیکاٹ کی مخالفت کی۔اس پر لال حسین اختر صاحب ان کے خلاف بھی بھڑک اٹھے۔عبدالغفور صاحب نے جب ان کے اخلاق دیکھے اور جماعت کے عقائد کا مطالعہ کیا تو وہ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئے (۲۷)۔مخالفین ابھی اس خفت سے سنبھلنے نہیں پائے تھے کہ ۱۹۳۶ء کے آخر میں اس فتنے کے بانی مبانی اور انجمن حمایت اسلام کے پریزیڈینٹ سید احمد الحاد خدا تعالیٰ کی گرفت میں آکر ایک حادثہ کا شکار ہو گئے۔ان کی ہلاکت سے انجمن کی مخالفانہ کوششوں میں نمایاں کمی آگئی اور لال حسین اختر صاحب نے بھی بوریا بستر لپیٹا اور ہندوستان واپس آگئے۔(۲۸،۲۶) اس کے بعد مخالفت کی لہر نے ایک اور رنگ اختیار کیا اور اب جماعت کے مقابل پر دیگر مذاہب کے مخالفین بھی میدان میں اتر آئے۔اب اس کا مرکز ٹانگا نیکا میں ٹبورا کا شہر تھا۔یہاں پر مقیم چند پنجابیوں نے ایک با اثر نیم عرب کے ساتھ مل کر شرارت کرنی شروع کی۔مساجد میں خطبات کے ذریعہ اور فتووں کے ذریعہ لوگوں کو روکنا شروع کیا کہ وہ احمدیوں کی کوئی بات نہ سنیں۔۔