سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 76

مرسل کے منہ سے نکلا تھا۔چنانچہ پہلی سزا تو خود حسین کامی کو اپنی ذات میں پہنچی۔یعنی جب اس نے قادیان سے واپس جا کر اخبارات میں حضرت مسیح موعود کے خلاف اعلان شائع کرایا تو اس کے کچھ عرصہ بعد وہ کسی جرم کی وجہ سے ترکی حکومت کے زیر عتاب آکر سفارت سے برطرف کر دیا گیا اور اس کے املاک وغیرہ ضبط کر لئے گئے لے اور پھر حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے بعد خود سلطان ترکی اور ان کے خاندان کی بھی جو حالت ہوئی وہ تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہے جسے اس جگہ دہرانے کی ضرورت نہیں یعنی مختصر یہ کہ اس کے بعد ترکی کے ملک میں بغاوت ہوئی اور سلطان اپنے عہدہ سے معزول ہو کر جلا وطن ہوا اور بالآ خر حکومت ترکی نے سلطان اور خلیفتہ المسلمین کا عہدہ ہی منسوخ کر کے اس سلسلہ کا خاتمہ کر دیا۔حضرت مسیح ناصری کے متعلق ایک عظیم الشان تحقیق:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں حقیقی تو حید کے قیام کا انتہائی جوش تھا اور آپ کی یہ دلی تڑپ تھی کہ جس طرح بھی ہولوگوں کے خود ساختہ بت خدائے واحد کے سامنے گر کر پاش پاش ہو جائیں اور آپ ان مصنوعی بتوں میں حضرت مسیح ناصری کے وجود کو سب سے بڑا بت خیال کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح کے بعد اس جھوٹے عقیدہ کو گھڑ کر دنیا میں ایک ظلم عظیم کی عمارت کھڑی کر دی ہے اور آپ اس عمارت کو گرانے کو اپنا سب سے بڑا مشن خیال کرتے تھے۔چنانچہ جب شروع شروع میں آپ پر اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات اور رفع الی السماء کا عقیدہ غلط ہے اور یہ کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح اپنی عمر کے دن گزار کر فوت ہو گئے تھے تو آپ نے دنیا میں اس انکشاف کی نہایت کثرت کے ساتھ اشاعت فرمائی اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس خیال پر بہت زور دیا کہ دوسرے فانی انسانوں کی طرح حضرت مسیح ناصری دنیا میں اپنی زندگی کے دن گزار کر فوت ہو چکے ہیں۔جس میں آپ کی دو غرضیں تھیں۔اول یہ کہ اس طرح شرک کو مٹا کر تو حید کو قائم کیا جاوے۔دوسرے یہ کہ حضرت مسیح کو فوت شدہ ثابت کر کے اپنے خدا داد منصب کی طرف لوگوں کی توجہ کو کھینچا جاوے۔ے دیکھو حضرت مسیح موعود کا اشتہار مورخہ ۱۸ نومبر۱۸۹۹ء ملحض از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه۳۳۳ جدید ایڈیشن