سلسلہ احمدیہ — Page 75
۷۵ کی ملاقات کی غرض سے قادیان آیا اور علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کر کے سلطان ترکی کے لئے دعا کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ اگر سلطان کی حکومت کے متعلق آپ کو خدا کی طرف سے کچھ معلوم ہو تو مجھے بتا ئیں آپ نے اسے بتایا کہ میں تمہارے سلطان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور اس کی سلطنت کا حال بھی مجھے خراب نظر آتا ہے اور اپنے دعوئی کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود نے حسین کا می کو سمجھایا کہ اب میری بعثت کے بعد مسلمانوں کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ میری اتباع کو قبول کریں ورنہ خواہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا اس کا انجام اچھا نہیں چنانچہ آپ اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے خود تحریر فرماتے ہیں کہ:۔میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بری معلوم ہوئیں۔میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے۔خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بر بادی کو چاہتی ہے۔تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ماسوا اس کے میرے دعوی مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان میں آئیں۔میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔بادشاہ ہو یا غیر 6 بادشاہ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں۔“ لے الغرض ترکی سلطنت کا سفیر بہت دلبرداشتہ ہو کر قادیان سے واپس گیا اور اپنے دل میں مخالفت اور عداوت کے جذبات لے کر لوٹا مگر خدا نے جلد ہی دنیا کو بتا دیا کہ حق وہی تھا جو خدا کے اشتہار مورخہ ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۰۴ جدید ایڈیشن