سلسلہ احمدیہ — Page 77
22 لیکن اس سارے عرصہ میں آپ صرف اس خیال پر قانع نہیں رہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں بلکہ آپ اپنے طور پر اس تحقیق میں بھی لگے رہے کہ اس بات کا پتہ لگا ئیں کہ صلیب کے واقعہ کے بعد کیا پیش آیا اور صلیب سے بچ کر حضرت مسیح کہاں گئے اور بالآ خرانہوں نے کہاں پہنچ کر انتقال کیا۔چنانچہ آخر کار آپ کی یہ کوشش کامیابی کا پھل لائی اور آپ نے کھوج نکالتے نکالتے اس صدیوں کے چھپے ہوئے راز کا پتہ لگا لیا۔چنانچہ ۱۸۹۸ء میں آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری صلیب پر چڑھائے تو گئے تھے مگر صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب کی تکلیف کی وجہ سے صرف بیہوش ہو گئے تھے اور پھر اپنے بعض دوستوں کی کوشش اور بعض افسران حکومت کی مخفی ہمدردی کی وجہ سے بیہوشی کی حالت میں ہی صلیب سے اتار لئے گئے تھے اور صلیب سے اتارنے کے بعد بھی جیسا کہ ملک میں دستور تھا ان کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں اور ان کا جسم ان کے ہمدردوں کے سپرد کر دیا گیا وغیرہ وغیرہ یہاں تک تو یہ ایک ایسا عقیدہ تھا کہ خود مسیحی قوم کا ایک حصہ ایک دھندلے خیال کے طور پر اس کا قائل رہا ہے مگر حضرت مسیح موعود نے نہ صرف اس خیال پر مزید روشنی ڈالی بلکہ اپنی تحقیق کو اس کے آگے چلا کر ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری نہ صرف صلیب سے بچ گئے تھے بلکہ اس کے بعد وہ علاج سے اچھے بھی ہو گئے لیکن چونکہ ملک میں ان کی سخت مخالفت تھی اور صلیب کے بعد زندہ نظر آنا سخت خطرہ کا باعث تھا اس لئے وہ اپنے زخموں وغیرہ سے کسی قدر صحتیاب ہونے کے بعد خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے اور بالآخر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کی تلاش میں گھومتے گھومتے کشمیر میں پہنچے جہاں ایک سو بیس سال کی عمر کو پہنچ کر طبعی حالت میں ان کی وفات ہوئی اور وہ سری نگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں جہاں اب تک ان کی قبر محفوظ ہے اور یہ قبر کشمیر کی قدیم ترین قبروں میں سے ہے جس کے متعلق اہل کشمیر کی روایات سے پتہ لگتا ہے کہ یہ ایک شہزادہ نبی کی قبر ہے جو کہیں باہر سے آیا تھا اور خود اہل کشمیر کے متعلق یہ ثابت ہے کہ وہ بنواسرائیل ہی کی ایک شاخ ہیں جو ابتداء میں اپنے پدری درخت سے جدا ہو کر کشمیر کی طرف آگئے تھے۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ