سلسلہ احمدیہ — Page 74
۷۴ کے لئے مقرر نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائی پادریوں کے کہنے کہانے سے ایسا بیان دیا تھا۔جس پر حضرت مسیح موعود بڑی عزت کے ساتھ بری کئے گئے اور آپ کے مخالفوں کے ماتھے پر نا کامی کے علاوہ ذلت کا ٹیکہ بھی لگ گیا دشمن کے ساتھ احسان کا سلوک :۔اس مقدمہ کے دوران میں دو باتیں ایسی ظاہر ہوئیں جن سے حضرت مسیح موعود کے اعلیٰ اخلاق پر بہت بھاری روشنی پڑتی ہے۔اول یہ کہ دورانِ مقدمہ میں جب مولوی محمد حسین بٹالوی آپ کے خلاف شہادت میں پیش ہوئے اور آپ کو سزا دلوانے کی کوشش میں عیسائیوں کے حمایتی بنے تو آپ کے وکیل نے ان کے خلاف ایسی جرح کرنی چاہی جس سے ان کے بعض ذاتی اور خاندانی عیوب ظاہر ہوتے تھے اور ان کی حیثیت کے گرنے سے حضرت مسیح موعود کو فائدہ پہنچتا تھا کیونکہ وہی بڑے گواہ تھے مگر حضرت مسیح موعود نے اپنے وکیل کوسختی کے ساتھ اس جرح سے روک دیا اور کہا کہ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ اس قسم کے سوال کئے جائیں آپ کے اس رویہ کا اس وکیل پر جو اتفاق سے وہ بھی ایک غیر احمدی تھا آپ کے اعلیٰ اخلاق کے متعلق نہایت گہرا اثر ہوا۔اور وہ ہمیشہ اس واقعہ کا تعجب کے ساتھ ذکر کیا کرتا تھا کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کو تذلیل سے بچایا۔دوسری بات یہ تھی کہ جب مجسٹریٹ نے فیصلہ سنایا تو حضرت مسیح موعود کو بری قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپ کے خلاف یہ مقدمہ جھوٹے طور پر بنایا گیا تھا۔قانونی طور پر آپ کو یہ حق ہے کہ اگر چاہیں تو مقدمہ کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔آپ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں چاہتا۔خدا نے مجھے اپنے وعدہ کے مطابق بری کر دیا ہے اور وہ میرا محافظ ہے مجھے اپنے مخالفوں کے خلاف انتقامی چارہ جوئی کی ضرورت نہیں۔اس کا بھی دیکھنے والوں پر نہایت گہرا اثر ہوا۔سفیر ترکی کی قادیان میں آمد اور ایک خدائی نشان :- ۱۸۹۷ء میں ایک اور اہم واقعہ بھی پیش آیا اور وہ یہ کہ حسین کا می جو حکومت ترکی کی طرف سے ہندوستان میں سفیر تھا وہ حضرت مسیح موعود ل ملخص از کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹ تا ۳۰۱