سلسلہ احمدیہ — Page 73
۷۳ بھی صداقت کی طرف دعوت دی تھی اور اپنے دعوئی کو پیش کر کے امیر صاحب کو حق کی طرف بلایا تھا بلکہ یہ بھی لکھا تھا کہ اگر میرے دعوی میں کچھ شک ہو تو اسے ایک طرف رکھ کر اسلام کی خدمت میں ہی میری امداد کرو کیونکہ یہ سب مسلمانوں کا مشترکہ کام ہے اور اس وقت اسلام سخت مصائب میں گھرا ہوا ہے مگر امیر نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ سنا گیا ہے کہ تحقیر اور استہزاء کا طریق اختیار کیا ہے حضرت مسیح موعود کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ :۔حضرت مسیح موعود کی اس روز افزوں ترقی اور کامیابی کو دیکھ کر ہندوستان کی مختلف قوموں نے آپ کو اس رنگ میں بھی کچلنا چاہا کہ آپ پر سنگین مقدمات قائم کر کے آپ کو حکومت کی طرف سے سزا دلائی جائے یا کسی اور طرح نقصان پہنچایا جاوے۔چنانچہ پنڈت لیکھرام کے قتل کے موقعہ پر آپ کے مکان کی تلاشی اس کوشش کا نتیجہ تھی۔لیکن جب اس کوشش میں بھی نا کامی رہی تو اس خیال سے کہ شاید انگریزی حکومت اپنے پادریوں کی بات کی طرف زیادہ توجہ دے گی آپ کے خلاف مسیحی پادریوں کی طرف سے ایک مقدمہ اقدام قتل کا کھڑا کروایا گیا اور آریہ صاحبان اور غیر احمدی مسلمان اس ناپاک کوشش میں ان کے مددگار بنے۔چنانچہ پادری مارٹن کلارک نے آپ کے خلاف یہ استغاثہ دائر کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک مسلمان نوجوان کو میرے قتل کے لئے سکھا کر بھجوایا ہے اور ایک آوارہ گرد مسلمان لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر عدالت میں پیش کر دیا۔اس مقدمہ میں ایک مشہور آریہ وکیل نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ کی مفت پیروی کی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بطور گواہ کے پیش ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کو قاتل ثابت کرنے کے لئے ایک پورا جال بچھا دیا گیا۔مگر جس کو خدا بچانا چاہے اسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔خدا نے ایسا تصرف کیا کہ جس لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر کھڑا کیا گیا تھا اس سے اپنے بیان کے دوران میں ایسی حرکات سرزد ہوئیں کہ گورداسپور کے انصاف پسند ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس کو شبہ پیدا ہوا کہ یہ سارا مقدمہ محض ایک سازش ہے چنانچہ اس نے زیادہ چھان بین کی اور لڑکے کو پادریوں کے قبضہ سے نکال کر اس پر زور ڈالا تو اس نے اقبال کر لیا کہ مجھے ہرگز مرزا صاحب نے کسی کے قتل لے دیکھو سیرۃ المہدی حصہ سوم مصنفہ خاکسار مؤلف