سلسلہ احمدیہ — Page 58
۵۸ سوم :۔یہ ثابت کرنا کہ عربی زبان الہامی زبان ہے یعنی اس کا آغاز خدا کی طرف سے بذریعہ الہام ہوا تھا۔آپ کی یہ تحقیق کو بظاہر ایک محض علمی تحقیق تھی لیکن غور کیا جاوے تو اس کا جوڑ بھی بالآخر اسلام کی خدمت کے ساتھ جا ملتا ہے کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ عربی زبان واقعی ام الالسنہ ہے تو پھر اس دعویٰ پر بہت بھاری روشنی پڑتی ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبین ہیں اور قرآنی شریعت آخری اور عالمگیر شریعت ہے۔اس تحقیق کے اعلان کے ساتھ ہی آپ نے یہ تحریک بھی فرمائی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ عربی سیکھنے کی طرف زیادہ توجہ دیں کیونکہ اس کے بغیر وہ قرآنی حقائق و معارف کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے چنانچہ آپ نے اپنی جماعت میں بھی عربی کو رواج دینے کے لئے ایک سلسلہ اسباق جاری فرمایا جس میں روز مرہ کے الفاظ اور بول چال کے آسان فقروں کے ذریعہ عربی کی تعلیم دینا مقصود تھی اور آپ کا منشاء یہ تھا کہ مسلمان خواہ کسی ملک یا کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں انہیں چاہئے کہ عربی کو اپنی دوسری زبان سمجھیں اور اس کے سیکھنے کی طرف خاص توجہ دیں۔مذہبی مباحثات کے متعلق وائسرائے یہ زمانہ ہندوستان میں مذہبی بحث و مباحثہ کے زور کا زمانہ تھا اور ہر قوم ایک دوسرے کے خلاف اٹھی ہند کی خدمت میں میموریل:۔ہوئی تھی اور ایک دوسرے کے خلاف نہایت سخت حملے کئے جارہے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں کو ہر قسم کے اعتراضات کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے ملک کی فضا سخت مسموم ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود نے اس حالت کو دیکھا اور اس کے خطرناک نتائج کو محسوس کیا تو وائسرائے ہند کی خدمت میں ایک میموریل بھجوانے کی تجویز کی اور سمجھ دار غیر احمدیوں کو بھی اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔اس میموریل میں یہ استند ع تھی کہ چونکہ مذہبی تحریروں اور تقریروں کو حد اعتدال کے اندر رکھنے کے لئے موجودہ قانون کافی نہیں ہے اور ملک کی فضا خراب ہو رہی ہے اور بین الاقوام کشیدگی کے علاوہ لوگوں کے اخلاف بھی بگڑ رہے ہیں اس