سلسلہ احمدیہ — Page 59
۵۹ لئے گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس بارے میں موجودہ قانون کو توسیع دے کر ایک نیا قانون بنادے تاکہ لوگ مذہبی تحریروں اور تقریروں میں مناسب حد سے تجاوز نہ کر سکیں اور بین الاقوام کشیدگی میں اصلاح کی صورت پیدا ہو اور آپ نے اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کی کہ اوّل یہ قانون بنا دیا جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق پر ایسا حملہ یا ایسا اعتراض کرنے کا مجاز نہ ہو جو خود اس کے اپنے مذہب پر بھی پڑتا ہو کیونکہ یہ بھی ایک بڑا ذریعہ فتنہ و فساد کا ہے کہ لوگ اپنے اندرون خانہ پر نگاہ ڈالنے کے بغیر دوسرے مذہبوں اور ان کے پیشواؤں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہی اعتراض ان کے اپنے مذہب پر اور اپنے پیشواؤں پر بھی پڑتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ہر فریق اپنے مذہب کی مسلمہ کتب کی ایک فہرست شائع کر دے جو اس کے مذہب کی مقدس اور بنیادی کتب ہوں اور ان کتب کی ترتیب بھی مقرر کر دے اور پھر گورنمنٹ کی طرف سے یہ پابندی لگا دی جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق کے مذہب پر اعتراض کرتے ہوئے ان کتب سے باہر نہ جاوے کیونکہ بین الاقوام کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ رطب و یابس کے ہر ذخیرہ کو جوزید و بکر کی طرف سے شائع ہوا سے اس مذہب کے خلاف حملہ کرنے کا بہانہ بنالیا جاتا ہے۔یہ وہ تجویزیں تھیں جو حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۵ء میں گورنمنٹ کے سامنے ایک با قاعدہ میموریل کی صورت میں پیش کرنی چاہیں اور ایک طرح سے آپ نے انہیں اپنے اشتہاروں کے ذریعہ پیش بھی کر دیا ہے مگر افسوس ہے کہ بعض کو نہ اندیش مسلمانوں کی حاسدانہ دخل اندازی سے یہ تجویز تکمیل کو نہ پہنچ سکی اور گورنمنٹ نے بھی اس معاملہ میں توجہ نہ دی اور مذہبی مناقشات بد سے بدتر صورت اختیار کرتے گئے۔اس کے بعد جب ۱۸۹۸ء میں ایک متعصب عیسائی نے ایک کتاب امہات المومنین لکھ الله کر شائع کی اور اس میں آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مبارکہ کے متعلق نہایت گندے اور اشتعال انگیز حملے کئے تو حضرت مسیح موعود نے اپنی سابقہ تجویزوں کو پھر دوبارہ زیادہ تفصیل اور تعیین لا دیکھو آریہ دھرم۔اشتہار مورخہ ۲۲ ستمبر ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۵ء۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۴۸۵ جدید ایڈیشن)