سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 388 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 388

۳۸۸ ان کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع رہنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ سیاسی میدان میں اسلام کی مذہبی تعریف کا سوال نہیں ہے پس خواہ مذہباً ہمارے نزدیک اسلام کی تعریف کچھ ہو مگر سیاسی لحاظ سے ہر وہ شخص مسلمان سمجھا جائے گا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور جسے غیر مسلم اقوام مسلمان سمجھتی ہیں اور ایک مسلمان کے طور پر اس کے ساتھ سلوک کرتی ہیں۔آپ نے لکھا کہ مسلمانوں کے اتحاد کا فقط یہی ایک ذریعہ ہے کہ وہ سیاسیات میں اسلام کی مذہبی تعریف کو نظر انداز کر دیں اور صرف سیاسی تعریف پر اپنے اتحاد کی بنیاد رکھیں ورنہ اگر سیاسی میدان میں اسلام کی اس تعریف پر بنیاد رکھی جائے گی جو ہر فرقہ دینی لحاظ سے صحیح قرار دیتا ہے تو مسلمانوں میں کبھی بھی اتحاد نہیں ہو سکے گا اور ان کے سیاسی اور قومی حقوق ان کے باہمی اختلاف اور افتراق کی وجہ سے دن بدن ان کے ہاتھ سے نکلتے چلے جائیں گے لے یہ ایک نہایت لطیف رستہ تھا جو آپ نے مسلمانوں کو بتایا اور گو بہت سے مسلمانوں نے اس نکتہ کی قدر کی مگر افسوس ہے کہ ابھی تک بہت سے مسلمان اس نکتہ کی قدرکو نہیں پہچانتے چنانچہ پچھلے دنوں میں ہی پنجاب کی مسلم لیگ میں یہ سوال پیدا ہوگیا تھا کہ چونکہ احمدیوں کے خلاف علماء کی طرف سے کفر کا فتویٰ ہے اس لئے ہم انہیں اپنی لیگ میں شامل نہیں کر سکتے۔سیاسیات کے میدان میں یہ ذہنیت یقیناً ایک سم قاتل سے کم نہیں۔جلسہ ہائے سیرۃ النبی کی تجویز:۔حضرت خلیفہ امسیح ثانی نے اسلام اور مسلمانوں کی ہمدردی کے لئے جو کچھ کیا وہ آپ کی اسلامی محبت اور ملی خلوص کی ایک نہایت روشن مثال ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کا دل دوسری قوموں کی خیر خواہی اور ملک کی عمومی ہمدردی کے جذبات سے خالی ہے چنانچہ آپ نے ان کارروائیوں کے معا بعد جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے یعنی ۱۹۲۸ء کے اوائل میں ایک ایسا قدم اٹھایا جو نہ صرف مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ بلکہ مسلمانوں کو ہندوؤں اور دوسری غیر مسلم اقوام کے ساتھ محبت اور موالات کی پختہ زنجیر میں پرونے والا تھا۔آپ نے ملک کی زہر آلود آپ نے مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی تعریف کے امتیاز کو ابتداء ۱۹۲۴ء میں ملک کے سامنے پیش فرمایا تھا مگر بعد میں ۱۹۲۷ء کے بہیجان کے ایام میں اس پر مزید روشنی ڈالی