سلسلہ احمدیہ — Page 389
۳۸۹ فضا کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز فرمائی کہ چونکہ ہندوستان کی مختلف قوموں کے باہمی افتراق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں کو محبت اور عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اس لئے کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے جس سے مختلف قوموں میں ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں کے لئے عزت اور محبت کے جذبات پیدا ہو جائیں۔اس اصول کے ماتحت آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ ہر قوم اپنے اپنے مذہب کے بانی اور پیشوا کی سیرت و سوانح کے بیان کرنے کے لئے سال میں ایک دن منایا کرے اور اس دن نہ صرف خود اس مذہب کے پیرو بلکہ دوسرے مذاہب کے متبعین بھی ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اس مذہب کے بانی کے پاکیزہ حالات لوگوں کو سنائیں۔تاکہ لوگوں کے دلوں سے بدگمانی اور نفرت کے جذبات دور ہوکر ان کی جگہ حسن ظنی اور محبت کے جذبات پیدا ہو جائیں۔آپ نے فرمایا کہ آئندہ ہم لوگ مقدس بانٹے اسلام ﷺ کی سیرت اور حالات سنانے کے لئے سال میں ایک دن ملک کے ہر شہر اور ہر قصبہ میں جلسہ کیا کریں گے اور ہماری طرف سے لوگوں کو یہ عام دعوت ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمارے پلیٹ فارم پر آکر ہمارے رسول کے پاکیزہ حالات پر اظہار خیال کریں تا کہ یہ آپس کی دوری کم ہو اور ایک دوسرے کے متعلق محبت اور قدرشناسی کے جذبات پیدا ہونے شروع ہو جائیں۔چنانچہ آپ کی اس تجویز کے مطابق آنحضرت ﷺ کے متعلق اس قسم کا دن ۱۹۲۸ء سے لے کر اب تک جماعت احمدیہ کے انتظام کے ماتحت ہندوستان کے ہر شہر اور ہر قصبہ میں جہاں جہاں احمدی پائے جاتے ہیں ہر سال منایا جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوشی کی بات ہے کہ کئی شریف اور معزز ہندو صاحبان اور سکھ صاحبان اور عیسائی صاحبان ہمارے ان جلسوں میں شریک ہو کر آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ سیرت اور پاک تعلیم اور نیک کارناموں کے حالات سناتے ہیں جن سے آہستہ آہستہ ملک کی فضا بہتری کی طرف مائل ہورہی ہے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے حضرت خلیفہ مسیح ثانی ن یہ بھی تجویز فرمائی تھی کہ دوسری قو میں بھی نے قومیں اسی طرح اپنے مذہبی پیشواؤں کے متعلق سال میں ایک دن منایا کریں تا کہ مسلمانوں کو بھی ان