سلسلہ احمدیہ — Page 387
۳۸۷ اپنا وطنی بھائی سمجھیں اور ان کے ساتھ بھائیوں کی طرح مل کر ر ہیں اور ان کی دوکانوں سے اسی طرح فراخ دلی کے ساتھ سودا خرید میں جس طرح وہ اپنے ہم مذہبوں سے خریدتے ہیں تو پھر ہم بھی بڑی خوشی کے ساتھ ان سے بھائیوں والا سلوک کریں گے مگر یہ بات انصاف سے سراسر بعید ہے کہ ہندو تو دولتمند ہو کر بھی مسلمانوں سے سودا نہ خریدیں اور اپنے اربوں روپے میں سے ایک پیسہ تک مسلمانوں کو دینے کے روادار نہ ہوں مگر مسلمان بھوکے مرتے ہوئے بھی اپنا پیسہ ہندوؤں کے حوالہ کر دیں۔مسلمانوں میں باہمی اتحاد کی کوشش یہ دن مسلمانوں کے لئے سخت مصائب و آلام کے اور ایک مشترک پلیٹ فارم کی تجویز:۔دن تھے۔ایک طرف تو وہ ہمسایہ قوموں کی دست درازیوں کے نیچے پیسے جا رہے تھے اور دوسری طرف ان کا آپس کا افتراق انہیں تباہی کی طرف دھکیل کر لئے جار ہا تھا۔ان حالات میں کئی مسلمان لیڈر اس کوشش میں تھے کہ کوئی صورت ایسی پیدا ہو جاوے کہ مسلمانوں کا اندرونی افتراق دور ہو جاوے اور وہ ایک مشترک پلیٹ فارم پر محبت اور اتحاد کے ساتھ مل کر کام کر سکیں مگر اس اتحاد کے لئے کوئی عملی صورت نظر نہیں آتی تھی اور مذہبی عقیدوں کا اختلاف اور ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دن بدن درمیانی خلیج کو زیادہ وسیع کرتے جا رہے تھے۔ان حالات میں حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے اس وقتی اتحاد سے فائدہ اٹھا کر جو ان ایام میں بین الا قوام کش مکش کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھایہ تحریک فرمائی کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے مقابل پر ایک جان ہو کر رہنا چاہئے آپ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ مسلمانوں کے بعض فرقے بعض دوسرے فرقوں کو مذہبی رنگ میں دائرہ اسلام سے خارج بھی قرار دیتا ہے چنانچہ خود جماعت احمدیہ کے خلاف بھی کفر کا فتویٰ صادر ہو چکا ہے اور جماعت احمد یہ بھی اپنے مذہبی عقائد کی رو سے دوسرے مسلمانوں کو حقیقی اور زندہ اسلام سے منحرف اور روگردان جانتی ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ تمام مسلمانوں کے سیاسی مفاد مشترک اور متحد ہیں۔پس خواہ مذہبی لحاظ سے عقیدہ کچھ ہی ہو مگر سیاسی لحاظ سے مسلمان ایک ہیں اور