سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 359 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 359

۳۵۹ حضرت خلیفہ مسیح نے اس علاقہ میں مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کو مبلغ بنا کر بھجوایا۔نیر صاحب اس سے پہلے انگلستان کے دار التبلیغ میں دو سال تک کام کر چکے تھے اور تبلیغ کا اچھا تجربہ رکھتے تھے چنانچہ وہ رستہ میں سی ایرالی اون اور گولڈ کوسٹ میں قیام کرتے ہوئے نائیجیریا میں پہنچے اور اس ملک کے دارالسلطنت لیگوس میں تبلیغی مرکز قائم کیا۔اور خدا نے ان کے کام میں ایسی برکت دی کہ ایک قلیل عرصہ میں نائیجیریا اور گولڈ کوسٹ میں ہزار ہا لوگ احمدیت کی صداقت کا شکار ہو گئے۔نیر صاحب کے بعد اس علاقہ میں حکیم فضل الرحمن صاحب کو بھجوایا گیا اور خدا کے فضل سے یہ دار التبلیغ اب تک بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے اور نائیجیریا کے علاوہ گولڈ کوسٹ اور سی ایرالی اون میں بھی تبلیغی مرکز قائم ہو گئے ہیں۔ان علاقوں میں پرانا قبائلی طریق رائج ہے اور چونکہ کئی قبیلوں کے سردار احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اس طرح ایک رنگ میں اس ملک کے ایک حصہ میں گویا احمدیت کا نظام بھی قائم ہو گیا ہے جو دن بدن وسیع ہو رہا ہے اور خدا کے فضل سے وہ دن دور نہیں کہ دنیا کی یہ دبی ہوئی قومیں جنہیں میسحیت کے استبداد نے غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اسلام اور احمدیت کے طفیل آزادی اور بلندی کی ہوا کھائیں گی۔اس جگہ احمدیوں کی اپنی مسجدیں ہیں اپنے مدارس ہیں اور ایک طرح سے اپنی عدالتیں بھی ہیں اور جماعت کے اس وسیع اثر کوکئی مغربی مبصرین نے بڑی حیرت کی نظر کے ساتھ دیکھا ہے۔چنانچہ مشہور مسیحی رسالہ مسلم ورلڈ ہمارے اس مشن کے متعلق لکھتا ہے۔سنوسیوں جیسے مسلمانوں کے قدیم فرقے جو یورپین طاقت سے کھلے جنگ کے حامی تھے ایک ایک کر کے میدان سے ہٹ رہے ہیں اور ان کی جگہ جدید فرقہ احمدی لے رہا ہے جس نے لیگوس کے مرکز سے تمام فرانسیسی مغربی افریقہ پر اثر جمالیا ہے۔“ اور ایک نائیجیریا کا مقامی عیسائی اخبار لکھتا ہے کہ:۔معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ وہ نائیجیریا کے مسلمانوں منقول از اخبار الفضل ۳ فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۸ کالم نمبر ۲