سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 360 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 360

کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا کر دیں۔چند ہی سال گزرے ہیں جبکہ انہوں نے یہاں کام شروع کیا اور اب یہ سلسلہ نہ صرف لیگوس میں بلکہ تمام نائیجیریا کے مسلمان نوجوانوں کی زندگی میں ایک بھاری تبدیلی پیدا کر رہا ہے۔مجلس مشاورت کا قیام:۔حضرت خلیفتہ المسیح نے جہاں صدر انجمن احمد یہ کے انتظام میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کیا وہاں آپ کو اس ضرورت کا بھی احساس پیدا ہوا کہ ملی امور میں جماعت سے مشورہ لینے کے لئے کوئی زیادہ پختہ اور زیادہ منظم صورت ہونی چاہئے۔اب تک یہ کام اس طرح پر تھا کہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر جبکہ دسمبر کے آخری ہفتہ میں ملک کے مختلف حصوں سے قادیان میں احمدی جمع ہوتے تھے تو اس وقت ضروری امور میں تبادلہ خیالات کر لیا جا تا تھا۔مگر حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ تمام مقامی جماعتوں کو جماعتی امور کے مشورہ میں زیادہ منسلک کرنے کے لئے کوئی بہتر اور زیادہ با قاعدہ انتظام ہونا چاہئے چنانچہ ۱۹۲۲ء سے آپ نے ایک مجلس مشاورت کی بنیاد قائم کی اور سال بھر میں اس کا کم سے کم ایک اجلاس ضروری قرار دیا اور تمام مقامی جماعتوں سے تحریک کی کہ وہ اس مجلس میں اپنے نمائندے بھجوایا کریں تا کہ ضروری امور میں مشورہ ہو سکے یہ مجلس عموماً ماہ مارچ یا اپریل میں منعقد ہوتی ہے جس میں قادیان کی مقامی جماعت اور ہر دوسری مقامی جماعت کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔جیسا کہ ہم نظام خلافت کی بحث میں اوپر ذکر کر چکے ہیں یہ مشورہ خلیفہ وقت کے لئے واجب العمل نہیں ہوتا بلکہ صرف مشورہ کا رنگ رکھتا ہے مگر باوجود اس کے اس سے تین بڑے فائدے مترتب ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ حضرت خلیفتہ اسی کو جماعت کے خیال اور رائے کا علم حاصل ہو جاتا ہے اور چونکہ بالعموم یہ مشورہ قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر قبول نہ بھی کیا جائے تو پھر بھی مشاورت میں حضرت خلیفہ اسیح کی آخری رائے مشورہ سننے کے بعد قائم ہوتی ہے اس لئے لازماً جماعت کے تمام اہم امور میں جماعت کی رائے کا پر تو داخل ہو جاتا ہے۔دوسرے اس طریق سے جماعت کو بھی تمام لے دی نائیجیرین سیکٹیٹر لیگوس