سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 358 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 358

۳۵۸ دوسرے ممالک کی نسبت جماعت کی نظر امریکہ کی طرف پہلے اٹھتی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کے حکم سے ۱۹۱۹ء میں امریکن مشن کا قیام عمل میں آ گیا۔اس مشن کے لئے سلسلہ احمدیہ کے ایک قدیم بزرگ اور کہنہ مشق مبلغ مفتی محمد صادق صاحب کو چنا گیا۔جو حضرت مسیح موعود کی لمبی صحبت اٹھائے ہوئے تھے اور مسیحی مذہب کا کافی مطالعہ رکھتے تھے۔مفتی صاحب موصوف نے جو اس سے کچھ عرصہ پہلے لندن مشن میں بھی کام کر چکے تھے امریکہ میں ۱۹۱۹ء سے لے کر ۱۹۲۳ء تک کام کیا اور اس کے بعد یہ دار التبلیغ خدا کے فصل سے برابر قائم ہے اور اچھا کام کر رہا ہے۔امریکہ میں گوسفید آبادی نے بھی ایک حد تک توجہ کی ہے مگر اس وقت تک زیادہ کامیابی امریکہ کی کالی آبادی میں ہوئی ہے جو بڑی کثرت کے ساتھ اسلام کی طرف مائل نظر آتی ہے۔اس طرح حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کا بویا ہوا پیج نہ صرف مغرب کو مشرق سے بلکہ نئی دنیا کو پرانی دنیا سے بھی ملا دینے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکن مشن کا مرکز شکاگو میں ہے جہاں اس وقت صوفی مطیع الرحمن صاحب ایم اے انچارج ہیں۔مغربی افریقہ کا دارالتبلیغ :۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میں دنیا میں اسود و احمر کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں یعنی دنیا کی جملہ تو میں خواہ وہ سفید و سرخ ہوں یا کالی اور سیاہ فام وہ سب میرے پیغام کی مخاطب ہیں۔چونکہ حضرت مسیح موعود بھی آنحضرت ﷺ کی طرح دنیا کی سب قوموں کے لئے مبعوث ہوئے تھے اس لئے ضروری تھا کہ جوں جوں حالات موافق ہوتے جاتے آپ کے پیغام کو سب اقوام عالم تک پہنچانے کا انتظام کیا جاتا۔بلکہ ترقی یافتہ سفید قوموں کی نسبت وبی ہوئی کالی قوموں کا حق زیادہ تھا کیونکہ فیوں کی بعثت زیادہ تر پستی میں پڑی ہوئی قوموں کو اور پر اٹھانے کے لئے ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اُمسیح ثانی نے ۱۹۲۱ء میں مغربی افریقہ کی طرف توجہ فرمائی اور اس بات کا عزم فرمایا کہ اس علاقہ کی حبشی اقوام تک پیغام حق پہنچایا جاوے۔یہ ایک بہت وسیع علاقہ ہے جس میں نائیجیریا اور گولڈ کوسٹ اور سی ایرالی اون وغیرہ کئی ممالک شامل ہیں۔