سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 332 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 332

۳۳۲ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی جبکہ آپ کا بالکل بچپن کا زمانہ تھا آپ میں خدمت دین کا ایک زبر دست جذبہ پیدا ہو چکا تھا چنانچہ جب حضرت مسیح موعود نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں احمدی نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ خدمت کے لئے آگے آئیں اور اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کریں تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے فوراً اس ارشاد کی تعمیل میں ایک انجمن تفخیذ الاذہان قائم کر کے اور اس کی نگرانی میں ایک اسی نام کا رسالہ جاری کر کے تقریر و تحریر میں مشق کا سلسلہ شروع کر دیا اور ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ اس انجمن اور اس رسالہ کے ذریعہ خدمت دین کا شاندار کام سرانجام پانے لگا۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ کی عمر صرف ساڑھے انیس سال کی تھی مگر اس وقت بھی مخالفوں کے اعتراضوں کا سب سے زیادہ مفصل اور دندان شکن جواب آپ ہی کے قلم سے نکلا ہے اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے آپ کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا اور آپ نے حضرت خلیفہ اول سے قرآن شریف اور بعض کتب حدیث و تصوف کی جس حد تک کہ خدا نے چاہا تعلیم حاصل کی مگر اس تعلیم کا بھی رنگ خاص تھا۔حضرت خلیفہ اول کا قاعدہ تھا کہ آپ اپنے شاگردوں کے ساتھ بہت بے تکلف رہتے تھے اور شاگردوں کو یہ آزادی تھی کہ درس کے وقت میں جس طرح چاہیں سوالات کر کے بلکہ آپ کے ساتھ بحث مباحثہ میں پڑ کر اپنے علم میں ترقی دیں مگر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو آپ نے منع کر دیا تھا کہ وہ کوئی سوال نہ کیا کریں اور ہدایت دی تھی کہ جب کوئی مشکل پیش آئے تو خود سوچ کر اور طبیعت پر زور ڈال کر اس کا حل نکالا کریں۔۱۹۱۱ء کے اوائل میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے تبلیغ و تربیت اور باہمی رابطہ و اتحاد و محبت کی غرض سے ایک انجمن انصار اللہ قائم کی جس کے ممبروں کا یہ فرض تھا کہ وہ خدمت دین اور تبلیغ اسلام واحمدیت کے لئے اپنے وقت کا کچھ حصہ لا زما د یں اور لوگوں کے لئے پاک نمونہ بنیں اور آپس میں محبت و اخوت کا رابطہ بڑھائیں ہے چنانچہ جماعت کے بہت سے احباب نے اس انجمن کی ے دیکھو محمود اور محمدی مسیح کے دشمنوں کا مقابلہ ۲ بدر ۲۳ فروری ۱۹۱۱ صفحه ۲