سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 333 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 333

۳۳۳ ممبری قبول کی اور ان کے ذریعہ سے تبلیغ و تربیت کے کام میں ایک خاص ولولہ پیدا ہو گیا۔۱۹۱۲ء کے ماہ ستمبر کے آخر میں آپ بیت اللہ کے حج کے لئے تشریف لے گئے لے اور اس سفر میں بھی تبلیغ کا حق خوب ادا کیا۔۱۹۱۳ ء کے وسط میں آپ نے قادیان سے الفضل اخبار کا اجراء کیا جس میں سلسلہ کی خبروں کے علاوہ ایک مقررہ پروگرام کے ماتحت علمی اور تاریخی اور تبلیغی اور تربیتی مضامین شائع ہوتے تھے اور ایک نہایت قلیل عرصہ میں اس اخبار نے نہ صرف اپنوں میں بلکہ بیگانوں میں بھی بہت مقبولیت حاصل کر لی اور حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد سے یہی اخبار جماعت احمدیہ کا مرکزی آرگن ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں آپ صدرانجمن احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے اور اس زمانہ میں آپ صدرانجمن احمدیہ کے انتظام میں کئی صیغوں کے آنریری انچارج بھی رہے جن میں لنگر خانہ اور مدرسہ احمدیہ زیادہ نمایاں تھے۔اسی زمانہ میں آپ حضرت خلیفہ اول کے حکم کے ماتحت شمالی ہندوستان کے کئی مقامات میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے اور خدا کے فضل سے آپ کے لیکچر ہمیشہ بہت مقبول ہوتے تھے۔آپ کی اولیات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ نے شروع سے ہی اس مخفی فتنہ کے شراروں کو دیکھ لیا تھا جو بالآخر وسیع ہو کر حضرت خلیفہ اول کی وفات پر نمودار ہوا اور آپ نے ہر ممکن کوشش اس فتنہ کو مٹانے اور اس کی وسعت کو روکنے کے لئے کی۔اس کوشش میں آپ کو طرح طرح کے مصائب میں سے ہو کر گزرنا پڑا مگر آپ نے ان مصائب کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کی اور جماعت کو اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کر دی۔اسی لئے منکرین خلافت آپ کو اپنادشمن نمبر اخیال کرتے تھے مگر آپ نے ان کے ہردوار کو اپنے نہتے ہاتھوں پر لیا اور کبھی ایک سیکنڈ کے لئے بھی صداقت کی مضبوط چٹان سے متزلزل نہیں ہوئے۔خدا کی مشیت نے تو بہرحال پورا ہوکر رہنا تھا مگر ظاہری اسباب کے لحاظ سے یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر حضرت خلیفہ اسیح ثانی کا وجود نہ ہوتا تو اس وقت جماعت احمد یہ ایک خطر ناک فتنہ کے بھنور میں گھری ہوئی ہوتی اور خاص خاص ل بدر ۱/۳ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۲ کالم نمبرا