سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 331 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 331

۳۳۱ آپ کی ولادت پر حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جس میں آپ کی ولادت پر خوشی کا اظہار کر کے اپنی بعض سابقہ پیشگوئیاں یاد کرائی تھیں اور اسی اشتہار میں لوگوں کو بیعت کے لئے آمادہ کرنے کے واسطے دس شرائط بیعت کا بھی اعلان فرمایا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔اس طرح گویا حضرت خلیفہ امسیح ثانی کی ولادت اور جماعت احمدیہ کا آغاز ایک ہی وقت میں جمع ہو جاتے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی اور روحانی رنگ میں یہ دونوں قوام ہیں۔جب حضرت خلیفتہ المسیح ثانی تعلیم کی عمر کو پہنچے تو آپ کو مقامی مدرسہ میں داخل کرا دیا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں آپ کو کبھی بھی کتابی تعلیم میں دلچسپی نہیں ہوئی حتی کہ بعض اوقات آپ کے اساتذہ شکایت کے رنگ میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں کہلا بھیجتے تھے کہ انہیں پڑھائی کی طرف توجہ نہیں۔ایک دفعہ جبکہ آپ کے ریاضی کے استاد نے زیادہ اصرار کے ساتھ توجہ دلائی تو حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ جس حد تک یہ شوق سے پڑھتا ہے پڑھنے دو۔ہمیں ان پڑھائیوں کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ انٹرنس تک اسی طرح گرتے پڑتے پہنچے۔اس کے آگے چونکہ سرکاری امتحان تھا اس لئے فیل ہو کر رک گئے اور یہی اب آپ کی مدرسی تحصیل علم کی حد ہے۔مگر یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ تقدیر الہی کا ایک زبردست کرشمہ تھا کیونکہ جیسا کہ بعد کے واقعات نے بتایا خدا خود آپ کا معلم بننا چاہتا تھا پس اگر آپ کے معاملہ میں دنیوی استادوں کی خواہشیں پوری ہو جاتیں اور آپ بڑی بڑی علمی ڈگریاں حاصل کر لیتے تو خدائی تعلیم کا پہلو کس طرح روشن ہوتا۔اب یہ حال ہے کہ باطنی اور روحانی علم کا معاملہ تو خیر جدا گانہ ہے ظاہری علوم میں بھی آپ کی نظر ہر اس علم کے میدان میں جس کا کسی نہ کسی رنگ میں دین کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے خواہ وہ واسطہ کتنا ہی دور کا ہو اس قدر وسیع ہے کہ کسی اسلامی صداقت پر حملہ کرنے والا خواہ وہ کیسے ہی دنیوی علوم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر آئے وہ آپ کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتا ہے۔اور خدا کا یہ فرمانا حرف بہ حرف پورا ہوا ہے کہ:۔وو وہ علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“