سلسلہ احمدیہ — Page 330
۳۳۰ خبر دی گئی اور جماعت احمدیہ کا یہ تسلیم شدہ عقیدہ ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت خلیفتہ اسیح ثانی میں پوری ہوئی ہے کیونکہ آپ کے اوصاف اور آپ کی خلافت کے حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ ہی اس کے مصداق ہیں۔بے شک حضرت خلیفہ اُسی ثانی نے خدا سے الہام پا کر دعویٰ نہیں کیا مگر آپ نے اپنے آپ کو اس پیشگوئی کا مصداق ضرور قرار دیا ہے۔لے اور مصلح موعود کے متعلق یہ شرط نہیں تھی کہ وہ مامور ہو گا بلکہ اس کے متعلق صرف یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ روح القدس سے نصرت پائے گا اور حضرت مسیح موعود کے بعد آ کر اور آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے کام کو ترقی دے گا اور پھر ایک برحق خلیفہ بھی اس رنگ میں گویا مامور ہی ہوتا ہے کہ گو اس کا انتخاب بظا ہر مومنوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر اس کے انتخاب میں خدائی تقدیر کام کرتی ہے اور یہاں تو جس رنگ میں اور جن حالات کے ماتحت حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کا انتخاب ہوا وہ اس بات کو روز روشن کی طرح ظاہر کر رہے ہیں کہ اس وقت لوگوں کے دل اور لوگوں کی زبانیں خدا کے ہاتھ میں تھیں اور لوگ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قدرت کی مخفی تاروں سے مجبور ہو کر اس طرف کھچے آرہے تھے۔پس یقیناً حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کا مقام عام خلفاء کے مقام سے ممتاز و بالا ہے اور جس رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی خلافت کو نوازا ہے اور اس کے ہر پہلو کو اپنی برکت کے ہاتھ سے ممسوح کیا ہے اس کی مثال دوسری جگہ بہت کم نظر آتی ہے۔حضرت خلیفہ اسی ثانی کے سوانح قبل از خلافت :۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد اور حضرت خلیفہ اسیح ثانی کے عہد خلافت کا ذکر شروع کرنے سے قبل ہم آپ کی ابتدائی زندگی کے حالات اور سوانح کے متعلق ایک نہایت مختصر نوٹ درج کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہفتہ کے دن بوقت شب قادیان میں پیدا ہوئے تھے۔اس سے پہلے ہماری والدہ صاحبہ کے بطن سے حضرت مسیح موعود کی صرف ایک لڑکی زندہ تھی مگر وہ بھی کچھ عرصہ بعد فوت ہوگئی۔اور اب گویا آپ اپنے سب بہن بھائیوں میں بڑے ہیں۔ے دیکھو خطبہ جمعہ مندرجه الفضل مورخه ۱۲ فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۵