سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 304 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 304

۳۰۴ حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر جماعت احمدیہ نے پہلی بیعت حضرت مسیح موعود کے اس باغ میں کی تھی جو بہشتی مقبرہ کے قریب ہے اور وہیں حضرت مولوی صاحب کی قیادت میں حضرت مسیح موعود کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔بیعت کے بعد حضرت مولوی صاحب نے ایک نہایت مؤثر اور دردانگیز تقریر فرمائی جس میں حضرت مسیح موعود کے بعد جماعت کو اس کی بھاری ذمہ داریاں یاد دلائیں اور فرمایا کہ ظاہری اسباب میں سے ان ذمہ داریوں کے ادا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ جماعت اپنے اتحاد کو قائم رکھ کر اس عظیم الشان کام کو جاری رکھے جسے حضرت مسیح موعود نے شروع کر رکھا تھا۔آپ نے فرمایا کہ مجھے خلیفہ بنے یا جماعت کو اپنے پیچھے لگانے کی کوئی خواہش نہیں تھی بلکہ میں چاہتا تھا کہ کوئی اور شخص اس بوجھ کو اٹھائے مگر اب جبکہ آپ لوگوں نے مجھے خلیفہ منتخب کیا ہے تو اس انتخاب کو خدا کی مرضی یقین کرتے ہوئے میں اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں لیکن یہ ضروری ہوگا کہ آپ لوگ میری پوری پوری اطاعت کریں تا کہ جماعت کے اتحاد میں فرق نہ آئے اور ہم سب مل کر اس کشتی کو آگے چلا سکیں جو خدا نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا کے متلاطم سمندر میں ڈوبتے ہوؤں کو بچانے کے لئے ڈالی ہے۔جماعت پھر ایک جھنڈے کے نیچے :۔قادیان کی بیعت خلافت کے بعد جوں جوں بیرونجات کی جماعتوں اور دوستوں کو حضرت مسیح موعود کی وفات اور حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی اطلاع پہنچی سب نے بلا استثناء اور بلا تامل حضرت خلیفہ اول کی اطاعت قبول کی اور ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میں جماعت احمدیہ کا ہر متنفس خلافت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گیا اور حضرت مسیح موعود کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ:۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔یہ نظارہ کے دشمنوں کے لئے نہایت درجہ روح فرسا تھا جو حضرت مسیح موعود کی الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶