سلسلہ احمدیہ — Page 303
٣٠٣ پس منصب خلافت کا یہ پہلو نہ صرف اسے دوسرے تمام نظاموں سے ممتاز کر دیتا ہے بلکہ اس قسم کے روحانی نظام میں میعادی تقریر کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔خلافت کے نظام کے متعلق یہ مختصر اور اصولی نوٹ درج کرنے کے بعد ہم اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں لے جماعت احمدیہ میں پہلے خلیفہ کا انتخاب: یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وفات پر تمام جماعت نے متفقہ اور متحدہ طور پر حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ اور جانشین منتخب کیا تھا۔یہ ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے۔یہ تقرر اسلامی طریق پر انتخاب کی صورت میں ہوا تھا یعنی حضرت مسیح موعود کی وفات پر قادیان اور بیرونجات کے جو احمدی جمع تھے اور ان میں جماعت کا چیدہ حصہ شامل تھا انہوں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا پہلا خلیفہ منتخب کر کے آپ کے ہاتھ پر اطاعت اور اتحاد کا عہد باندھا۔اس انتخاب اور اس بیعت میں صدر انجمن احمدیہ کے جملہ ممبران اور حضرت مسیح موعود کے خاندان کے جملہ افراد اور تمام حاضر الوقت احمدی اصحاب شریک و شامل تھے اور کسی ایک فرد واحد نے بھی حضرت مولوی صاحب کی خلافت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی اور اس طرح حضرت مسیح موعود کے بعد نہ صرف جماعت احمدیہ کا بلکہ صدر انجمن احمدیہ کا بھی پہلا اجماع خلافت کی تائید میں ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب جو حضرت مسیح موعود کے رشتہ داروں میں سے نہیں تھے جماعت کے بزرگ ترین اصحاب میں سے تھے اور اپنے علم وفضل اور تقوی وطہارت میں جماعت کے اندر عدیم المثال حیثیت رکھتے تھے۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی سب سے اوّل نمبر پر بیعت کی تھی اور حضرت مسیح موعود آپ کو اپنے خاص الخاص دوستوں اور محبتوں میں شمار کرتے تھے اور تمام جماعت احمدیہ میں آپ کا ایک خاص اثر اور رعب تھا حضرت مولوی صاحب دینی علم میں کامل ہونے کے علاوہ علم طب اور دیگر علوم مشرقیہ میں نہایت بلند پایہ رکھتے تھے اور قادیان آنے سے قبل مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کے دربار میں بطور شاہی طبیب کام کر چکے تھے۔ے نظام خلافت کے متعلق مفصل بحث کے لئے خاکسار کی کتاب ”سیرۃ خاتم النبین“ کا متعلقہ باب ملاحظہ فرمائیں۔