سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 305 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 305

۳۰۵ وفات کے بعد یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بس اب اس سلسلہ کے مٹنے کا وقت آ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر جمع کر کے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور دنیا کو بتادیا کہ یہ پودا خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے اور کسی انسان کو طاقت نہیں کہ اسے مٹا سکے۔جماعت میں انشقاق کا بیج : مگر جہاں حضرت مسیح موعود کی وفات پر خدا نے اپنی قدیم سنت کے مطابق آپ کی گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال کر اپنی قدرت نمائی کا ثبوت دیا وہاں تقدیر کے بعض دوسرے نوشتے بھی پورے ہونے والے تھے۔چنانچہ ابھی حضرت مسیح موعود کی وفات پر ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ بعض لوگوں نے جن کے ہاتھ پر اس فتنہ کا بیج ہونا مقدر تھا مخفی مخفی اور آہستہ آہستہ یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ دراصل حضرت مسیح موعود کا یہ منشاء نہیں تھا کہ آپ کے بعد جماعت میں کسی واجب الاطاعت خلافت کا نظام قائم ہو بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ سلسلہ کا سارا انتظام صدرانجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے جس کی آپ نے اسی غرض سے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بنیا د رکھی تھی۔پس اگر کسی خلیفہ کی ضرورت ہو بھی تو وہ صرف بیعت لینے کی غرض سے ہوگا اور انتظام کی ساری ذمہ داری صد را انجمن احمدیہ کے ہاتھ میں رہے گی۔اس سوال کی ابتداء صدر انجمن احمدیہ کے بعض ممبروں کی طرف سے ہوئی تھی جن میں مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز قادیان اور خواجہ کمال الدین صاحب بی اے ایل ایل بی لاہور زیادہ نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ان اصحاب اور ان کے رفقاء نے خفیہ خفیہ اپنے دوستوں اور ملنے والوں میں اپنے خیالات کو پھیلانا شروع کر دیا اور ان کی بڑی دلیل یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود کی وصیت میں خلافت کا ذکر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی ایک غیر مطبوعہ تحریر میں صدر انجمن احمدیہ کے حق میں اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میرے بعد اس انجمن کا فیصلہ قطعی ہوگا وغیر ذالک۔دلوں کا حال تو خدا جانتا ہے مگر ظاہری حالات پر اندازہ کرتے ہوئے اس سوال کے اٹھانے والوں کی نیت اچھی نہیں سمجھی جاسکتی تھی کیونکہ :۔