سلسلہ احمدیہ — Page 180
۱۸۰ ہے کہ کہاں انتقام ہونا چاہئے اور کہاں عفو اور درگز ر بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم اپنے ظالموں کی اولادوں کو معاف کرنا اور ان سے نرمی کا سلوک کرنا کیونکہ تمہارے مقدس آقا نے یہی کہا ہے کہ : اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کا خر کنند دعوائے حُبّ پیمبرم یعنی اے دل تو ان مسلمان کہلانے والوں کا بہر حال لحاظ کر کیونکہ خواہ کچھ بھی ہو آخر یہ لوگ ہمارے محبوب رسول کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔“ بلکہ مسلمانوں پر ہی حصر نہیں تم ہر قوم کے ساتھ عفو اور نرمی کا سلوک کرنا اور ان کو اپنے اخلاق اور محبت کا شکار بنانا کیونکہ تم دنیا میں خدا کی آخری جماعت ہو اور جس قوم کو تم نے ٹھکرا دیا اس کے لئے کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہو گا۔اے آسمان گواہ رہ کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو خدا کے بچے مسیح کی رحمت اور عفو کا پیغام پہنچا دیا۔تکفین و تدفین اور قدرت ثانیہ کا پہلا جلوہ:۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود کی وفات ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء بروز منگل بوقت ساڑھے دس بجے صبح ہوئی تھی اسی وقت تجہیز و تکفین کی تیاری کی گئی اور جب غسل وغیرہ سے فراغت ہوئی تو تین بجے بعد دو پہر حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے لاہور کی جماعت کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں نماز جنازہ ادا کی اور پھر شام کی گاڑی سے حضرت مسیح موعود کا جنازہ بٹالہ پہنچایا گیا جہاں سے راتوں رات روانہ ہو کر مخلص دوستوں نے اپنے کندھوں پر اسے صبح کی نماز کے قریب بارہ میل کا پیدل سفر کر کے قادیان پہنچایا۔قادیان پہنچ کر آپ کے جنازہ کو اس باغ میں رکھا گیا جو مقبرہ بہشتی کے ساتھ ہے اور لوگوں کو اپنے محبوب آقا کی آخری زیارت کا موقعہ دیا گیا۔اور پھر ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو قریباً بارہ سواحمدیوں کی موجودگی میں جن میں ایک کافی تعداد باہر کے مقامات سے آئی ہوئی تھی حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔اور آپ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی اور اس طرح حضرت مسیح موعود کا وہ الہام پورا ہوا کہ ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق۔“