سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 181 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 181

۱۸۱ پہلی بیعت کا نظارہ نہایت ایمان پرور تھا اور لوگ اس بیعت کے لئے یوں ٹوٹے پڑتے تھے جس طرح ایک مدت کا پیاسا پانی کو دیکھ کر لپکتا ہے۔ان کے دل غم وحزن سے چور چور تھے کہ ان کا پیارا آقا ان سے جدا ہو گیا ہے مگر دوسری طرف ان کے ماتھے خدا کے آگے شکر کے جذبات کے ساتھ سر بسجو د تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود کی بتائی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی کہ ” میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو خدا کی دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔“ حضرت خلیفہ اول کی بیعت جماعت کے کامل اتحاد کے ساتھ ہوئی جس میں ایک منفرد آواز بھی خلاف نہیں اٹھی اور نہ صرف افراد جماعت نے اور حضرت مسیح موعود کے خاندان نے آپ کی خلافت کو تسلیم کیا بلکہ صدر انجمن احمدیہ نے بھی ایک متحدہ فیصلہ کے ماتحت اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود کی وصیت کے مطابق حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے اور ساری جماعت کو آپ کی بیعت کرنی چاہئے لے حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مسیح موعود کے ساتھ کسی قسم کا جسمانی رشتہ نہیں رکھتے تھے اور ان کا انتخاب مومنوں کے اتفاق رائے سے ہوا تھا۔وہ حضرت مسیح موعود کے پرانے دوست اور سلسلہ بیعت میں اول نمبر پر تھے اور اپنے علم و فضل اور تقوی وطہارت اور اخلاق و قابلیت میں جماعت میں ایک لاثانی وجود سمجھے جاتے تھے۔بیعت خلافت کے بعد جو حضرت مسیح موعود کے باغ متصل بہشتی مقبرہ میں ایک آم کے درخت کے نیچے ہوئی تھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود کے باغ کے ملحقہ حصہ میں تمام حاضر الوقت احمدیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی نماز جنازہ ادا کی جس میں رقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے گریہ وزاری کی آواز اٹھ رہی تھی۔نماز کے بعد چھ بجے شام کے قریب حضرت مسیح موعود کے جسم اطہر کو مقبرہ بہشتی کے ایک حصہ میں دفن کیا گیا اور آپ کے مزار مبارک پر پھر ایک آخری دعا کر کے آپ کے غم زدہ رفیق اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔مگر جو در دبھری یا دخدا کے مقدس دیکھو اعلان خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدرانجمن احمد یہ مندرجہ الحکم ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء بدر۲ / جون ۱۹۰۸ء