سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 179

129 صرف احتیاط کے طور پر آئے اور اس خیال سے آئے کہ جھوٹ کا پول کھولیں۔دوسری طرف جب حضرت مسیح موعود کی وفات کی خبر مخالفوں تک پہنچی تو ایک آن واحد میں لاہور کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بجلی کی طرح پھیل گئی اور پھر ہماری آنکھوں نے مسلمان کہلانے والوں کی طرف سے وہ نظارہ دیکھا جو ہمارے مخالفوں کے لئے قیامت تک ایک ذلت اور کمینگی کا داغ رہے گا۔حضرت مسیح موعود کی وفات سے نصف گھنٹہ کے اندر اندر وہ لمبی اور فراخ سڑک جو ہمارے مکان کے سامنے تھی شہر کے بدمعاش اور کمینہ لوگوں سے بھر گئی اور ان لوگوں نے ہمارے سامنے کھڑے ہو کر خوشی کے گیت گائے اور مسرت کے ناچ ناچے اور شادمانی کے نعرے لگائے اور فرضی جنازے بنا بنا کر نمائشی ماتم کے جلوس نکالے۔ہماری غم زدہ آنکھوں نے ان نظاروں کو دیکھا اور ہمارے زخم خوردہ دل سینوں کے اندر خون ہو ہو کر رہ گئے۔مگر ہم نے ان کے اس ظلم پر صبر سے کام لیا اور اپنے سینوں کی آہوں تک کو دبا کے رکھا۔اس لئے نہیں کہ یہ ہماری کمزوری کا زمانہ تھا کیونکہ ایک کمزور انسان بھی موت کے منہ میں کود کر اپنی غیرت کا ثبوت دے سکتا ہے بلکہ اس لئے کہ خدا کے مقدس مسیح نے ہمیں یہی تعلیم دی تھی کہ :۔گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہی کہتے ہیں۔ہاں وہی نسلیں جن کے سروں پر بادشاہی کے تاج رکھے جائیں گے کہ جب خدا تمہیں دنیا میں طاقت دے اور تم اپنے دشمنوں کا سر کچلنے کا موقعہ پاؤ اور تمہارے ہاتھ کو کوئی انسانی طاقت روکنے والی نہ ہو تو تم اپنے گزرے ہوئے دشمنوں کے ظلموں کو یاد کر کے اپنے خونوں میں جوش نہ پیدا ہونے دینا اور ہمارے کمزوری کے زمانہ کی لاج رکھنا تالوگ یہ نہ کہیں کہ جب یہ کمزور تھے تو دشمن کے سامنے دب کر رہے اور جب طاقت پائی تو انتقام کے ہاتھ کو لمبا کر دیا۔بلکہ تم اس وقت بھی صبر سے کام لینا اور اپنے انتقام کو خدا پر چھوڑ نا کیونکہ وہی اس بات کو بہتر سمجھتا