سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 168

۱۶۸ آگاہی ہوئی تو آپ کو سخت رنج ہوا اور آپ اپنے دوستوں پر بھی سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مومن کو باغیرت ہونا چاہئے آپ لوگ اس قسم کے مضمون کے وقت کیوں نہ اٹھ کر چلے آئے اور کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم گالیاں سننے کے لئے نہیں آئے؟ اس کے بعد آپ نے آریوں کے ان اعتراضوں کے جواب کے لئے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام ” چشمہ معرفت رکھا اور حق یہ ہے کہ اس تحریر کے ذریعہ آپ نے حقیقی معرفت کے چشمہ کا منہ کھول دیا۔یہ کتاب نہ صرف ان اعتراضوں کا دندان شکن جواب ہے جو عموماً آریہ صاحبان کی طرف سے اسلام کے خلاف کئے جاتے ہیں بلکہ اس میں خود و یدک دھرم کی تعلیم پر بھی ایسی زبر دست جرح ہے کہ جس کا جواب کسی آریہ کی طرف سے ممکن نہیں ہوسکتا۔مثلاً آپ نے لکھا کہ آریوں کا یہ عقیدہ کہ خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں ہے بلکہ یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے خدا کے ساتھ ساتھ چلی آئی ہیں اور خدا صرف ان کے جوڑ توڑ سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے یہ نہ صرف ایک مشرکانہ عقیدہ ہے بلکہ غور کیا جائے تو اس عقیدہ کو مان کر خدا کی خدائی کا کچھ باقی ہی نہیں رہتا اور اس کی بہت سی اہم صفات مثلاً خالقیت اور مالکیت اور قدرت کاملہ وغیرہ کا انکار کرنا پڑتا ہے جن کے انکار کے بعد ایک سچا عابد خدا کی طرف کوئی کشش نہیں پاسکتا آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قدامت روح و مادہ کا مسئلہ ایک سراسر جھوٹے مشاہدہ اور قیاس مع الفارق کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی وسیع طاقتوں کو بھی اسی قانون سے ناپا گیا ہے جو اس کی محدود طاقتوں والی مخلوق پر چلتا ہے اور تناسخ کے عقیدہ کے متعلق آپ نے لکھا کہ وہ اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ قانون نیچر اور قانون شریعت میں تمیز نہیں کی گئی اور دنیا کے طبعی اختلافات کو جو ایک حکیمانہ قانون نیچر کے ماتحت رو پذیر ہوتے ہیں سراسر نادانی کے ساتھ قانون شریعت کے ماتحت قرار دے کر تناسخ کا عقیدہ گھڑ لیا گیا ہے حالانکہ تناسخ کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ اسے مان کر خدا کی صفت خالقیت اور صفت عفو و قبول تو بہ پر بالکل پانی پھر جاتا ہے۔اسی طرح اس عقیدہ کے متعلق کہ خدا کا الہام صرف وید کے زمانہ تک محدود تھا اور اس کے