سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 169 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 169

۱۶۹ بعد یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا آپ نے لکھا کہ یہ ایسا خطرناک عقیدہ ہے کہ جو ایمان کے پودے کو جلا کر خاک کر دیتا ہے کیونکہ ایمان کا درخت ایسا ہے کہ جب تک اسے خدائی نشانات اور خدائی کلام کے ذریعہ تازہ بتازہ پانی نہ ملتا رہے وہ خشک ہو جاتا ہے اور محض گزشتہ کے قصے اسے ہرگز زندہ نہیں رکھ سکتے۔جس مذہب نے خدائی الہام کا دروازہ بند کیا وہ مر گیا اسی لئے اسلام نے گو شریعت کو آنحضرت نے پر ختم قرار دیا ہے مگر الہام کے دروازہ کو بند نہیں کیا۔اسی طرح آپ نے محدود نجات اور گناہوں کی معافی کا دروازہ بند ہونے کے متعلق آریہ عقائد کی تردید میں ایسے زبر دست دلائل دیئے کہ جن سے اس مذہب کا سارا تار و پود بکھر گیا اور آریہ کیمپ میں ایک کھلبلی مچ گئی۔الغرض ” چشمہ معرفت‘ ایک نہایت لطیف اور جامع کتاب ہے جو آپ نے اپنی زندگی کے بالکل آخری ایام میں تصنیف فرمائی جس سے کے لٹریچر میں ایک نہایت بیش قیمت اضافہ ہوا۔قادیان میں فنانشل کمشنر کی آمد اور مارچ ۱۹۰۸ء کے تیسرے ہفتہ میں پنجاب کے فنانشل کمشنر سر جیمز ولسن اپنے دورہ میں قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود سے ملاقات:۔گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر کنگ کے ساتھ قادیان میں اپنا مقام رکھا۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ صوبہ کا ایک بڑا افسر جو اس زمانہ میں گورنر سے دوسرے نمبر پر ہوتا تھا قادیان آ کر ٹھہرا تھا اور غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ گورنمنٹ ایک ذمہ دار افسر کے ذریعہ کے متعلق مستند معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی اور ان مخالفانہ رپورٹوں کی صحت یا عدم صحت کا امتحان کرنا چاہتی تھی جو ان ایام میں کے متعلق اس کے مخالفوں کی طرف سے اوپر پہنچ رہی تھیں۔حضرت مسیح موعود کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے جن میں بہت سے احباب قادیان کے باہر سے بھی آئے ہوئے تھے فنانشل کمشنر صاحب کا بہت اچھی طرح استقبال کیا اور حضرت مسیح موعود نے ان کی دعوت بھی کی اور پھر آپ ان کی اس خواہش پر کہ میں