سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 167 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 167

۱۶۷ انگریزی حکومت کے لئے خاص تھی بلکہ آپ کی یہ تعلیم اصولی رنگ رکھتی تھی اور سب حکومتوں پر اس کا ایک سا اثر تھا کیونکہ اس کی بنیا د امن اور ضمیر کی آزادی کے اصول پر مبنی تھی جو سب کے لئے برابر ہے ہاں چونکہ آپ انگریزی حکومت کے ماتحت تھے اور اسی حکومت میں آپ کے سلسلہ کا مرکز واقع تھا اس لئے طبعاً آپ کی اس تعلیم میں انگریزی حکومت کا ذکر زیادہ آیا ہے۔لاہور میں آریوں کا جلسہ اور ۱۹۰۷ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود کو لاہور کی آریہ سماج نے یہ تحریک کی کہ ہم لاہور میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتے ہیں چشمہ معرفت کی تصنیف:۔جس میں ہم نے دوسرے مذاہب کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے اور آپ سے بھی درخواست ہے کہ اس جلسہ کے لئے کوئی مضمون لکھ کر ارسال فرما ئیں اور آریہ صاحبان نے اس جلسہ کے لئے یہ مضمون مقرر کیا کہ کیا دنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے؟ اگر ہے تو کونسی ہے؟“ آریہ صاحبان نے حضرت مسیح موعود کو یہ بھی یقین دلایا کہ جلسہ میں کوئی خلاف تہذیب اور دلآزار بات نہیں ہوگی اور دوسروں کے مذہبی احساسات کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود نے اس دعوت کو قبول کیا اور مقررہ موضوع پر ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ ارسال فرمایا اور جماعت میں بھی تحریک فرمائی کہ لوگ اس جلسہ میں شریک ہوں مگر ساتھ ہی آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ جلسہ کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ منتظمین جلسہ کی نیت بخیر نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی کا منہ نہیں دکھائے گا لے اس کے بعد یہ جلسہ ۳/ دسمبر ۱۹۰۷ء کو لاہور میں منعقد ہوا اور حضرت مسیح موعود کا مضمون حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھ کر سنایا جو نہایت درجہ مہذب اور موثر تھا مگر جب دوسرے روز آریہ مقرر کی باری آئی تو ان لوگوں نے سارے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسا دل آزاد مضمون پڑھا جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کے خلاف بدزبانی اور طعنہ زنی سے پر تھا اور جابجا اسلامی تعلیم کے خلاف دل آزار حملے کئے گئے تھے۔جب جلسہ کے بعد حضرت مسیح موعود کو حالات سے تلخیص از الحکم جلد نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۶، ۷