سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 118 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 118

۱۱۸ سینکڑوں شہروں اور قصبوں کے محلے کے محلے خالی ہو گئے اور بعض جگہ ایسی تباہی آئی کہ مردوں کو دفن کرنے کے لئے کوئی آدمی نہیں ملتا تھا اور لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں پڑی ہوئی سڑتی تھیں۔یہ زور ۱۹۰۲ء میں شروع ہوا اور پھر تھوڑے تھوڑے وقفوں کیساتھ دن بدن تیز ہوتا گیا حتی کہ ۱۹۰۳ء سے لے کر ۱۹۰۷ ء تک اس کے معراج کا زمانہ تھا۔اس عرصہ میں جماعت احمدیہ نے اس حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی کہ بعض اوقات ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی بیعت کے خطوط پہنچتے تھے اور دنیا گھبرا کر خدا کے مسیح کا دامن پکڑنے کے لئے ٹوٹی پڑتی تھی۔لوگوں کا یہ غیر معمولی رجوع کسی وہم کی بنا پر نہیں تھا بلکہ ہر غیر متعصب شخص کو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اس عذاب کے پیچھے خدا کا ہاتھ مخفی ہے جو اپنی قدیم سنت کے مطابق ماننے والوں اور انکار کرنے والوں میں امتیاز کرتا چلا جا رہا ہے۔بے شک جیسا کہ الہام میں بھی اشارہ تھا بعض خال خال موتیں احمدیوں میں بھی ہوئیں کیونکہ بسا اوقات جنگ میں فاتح فوج کے بعض سپاہی بھی مارے جاتے ہیں لیکن ان شاذ و نادر اموات کو اس خطر ناک ہلاکت سے کوئی نسبت نہیں تھی جو طاعون نے حضرت مسیح موعود کے منکرین میں برپا کی۔پس لوگوں کا یہ رجوع و ہم پر مبنی نہیں تھا بلکہ بصیرت پر مبنی تھا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اس وقت خدا کے عذاب کا حقیقی علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اس کے مسیح کی غلامی کو قبول کیا جاوے۔الغرض ان ایام میں جماعت احمدیہ نے نہایت خارق عادت رنگ میں ترقی کی اور پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔اس زمانہ میں لوگوں کے رجوع کو دیکھ کر بعض اوقات حضرت مسیح موعود مسکرا کر فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگ طاعونی احمدی ہیں کہ جب لوگوں نے دوسرے دلائل سے نہیں مانا تو خدا نے انہیں عذاب کا طماچہ دکھا کر منوایا۔اسی طرح اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ بھی کامل صفائی سے پورا ہوا یعنی قادیان میں طاعون آئی اور بعض اوقات کافی سخت حملے بھی ہوئے مگر اپنے وعدہ کے مطابق خدا نے اسے اس تباہ کن ویرانی سے