سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 119 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 119

١١٩ بچایا جو اس زمانہ میں دوسرے دیہات اور قصبات میں نظر آ رہی تھی اور پھر لطف یہ ہے کہ خدا نے اپنے نشان کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کے مکان کے ارد گر بھی طاعون کی تباہی دکھائی اور آپ کے پڑوسیوں میں کئی موتیں ہوئیں مگر اس سارے عرصہ میں آپ کے مکان میں کسی انسان کا مبتلائے مرض ہونا تو الگ رہا کبھی ایک چوہا تک بھی نہیں مرا۔اور خدا نے چاروں طرف آگ لگا کر بتادیا کہ اس وسیع آگ کے میدان میں اگر کوئی امن کی جگہ ہے تو بس یہی ایک مکان ہے جس کی حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہے۔پھر ایک اور لحاظ سے بھی طاعون نے خدا کے مسیح کی خدمت کی۔وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود کے کئی نامور دشمن اس مرض میں مبتلا ہو کر موت کا لقمہ بن گئے۔مثلاً ۱۹۰۲ء میں ہی جو طاعون کے زور کا پہلا سال تھا کا ایک اشد مخالف مولوی رسل بابا امرتسری جو پنجاب کے حنفیوں کا سرکردہ تھا طاعون سے ہلاک ہوا۔اسی طرح کئی اور مخالف طاعون کا شکار ہوئے۔ان ہلاک ہونے والوں میں بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا سن کر اس کے مقابل پر خود اپنے لئے بھی یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے۔مگر خدا نے ایسے لوگوں کو چن چن کر لیا اور جن لوگوں نے ایسا دعویٰ کیا تھا ان میں سے ایک بھی نہیں بچا چنانچہ ہم ان میں سے بعض کا ذکر آگے چل کر کریں گے۔حضرت مسیح موعود کی تعلیم کا خلاصہ :۔جب ۱۹۰۲ء میں طاعون کا زور ہونے لگا تو حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو نصیحت اور لوگوں کو جاہی سے بچانے کے لئے ایک کتاب لکھ کر شائع فرمائی جس کا نام آپ نے ”کشتی نوح رکھا۔گویا اس تباہی کے طوفان میں ایک نوح کی کشتی تھی جس میں بیٹھ کر لوگ اس ہلاکت سے بچ سکتے تھے۔اس کتاب میں آپ نے اپنی تعلیم کا خلاصہ پیش کیا اور بتایا کہ آپ اپنی جماعت سے کن عقائد اور کن اعمال کی توقع رکھتے ہیں۔ہم اس تعلیم کا ضروری اقتباس اس جگہ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔آپ نے لکھا۔”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس