صفات باری تعالیٰ — Page 80
یعنی الأسماء الحسنى بڑی شان والا ہے۔جن چیزوں کو یہ لوگ اس کا شریک قرار دیتے ہیں ان سے اللہ پاک ہے۔۱۰۵ - اَلْقَهَّارُ زبر دست غلبہ رکھنے والا حکمران۔قہر کے معنی عربی زبان میں غلبہ اور طاقت کے ہیں قاہر کے معنی غالب اور طاقت ور۔القَاهِرُ جو اللہ تعالیٰ کا نام ہے اس کے معنی ہیں وہ ذات پاک جو سب پر غالب ہے۔۸۰ انبیاء کرام دنیا میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انذار بھی کرتے ہیں اور بشارتیں بھی دیتے ہیں۔جو ان کی بات پر کان نہیں دھرتے اللہ تعالیٰ ان پر قہری تجلی نازل فرماتا ہے۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون اور آنحضرت سلیم کے زمانہ میں ابوجہل اور عاد و ثمود وقوم صالح اور قوم نوح اپنے انبیاء کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کی قبری تجلی کا نشانہ بن گئیں اور ہمارے زمانے میں حضرت مسیح موعود کے مقابل پر آنے والے کیا ڈوئی، عبداللہ آتھم اور لیکھر ام سب قہری بجلی کا نشانہ بن گئے اور ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔اس لئے جلد اس کی پناہ میں آجانا چاہیے۔١٠٦ _ اَلْقَاهِرُ فرمایا: الْقَهَّارُ الْقَاهِرُ کا مبالغہ ہے۔خود قرآن کریم نے الْقَادِر کے معنی کر دیئے ہیں۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ - (الأنعام:١٩) اور وہ خدا طاقت ور ہے۔یعنی اپنے بندوں پر غالب ہے۔اور القهار قرآن کریم میں مندرجہ ذیل مقامات پر آیا ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ وَمَا مِنْ إِلَهِ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (ص: ۶۶)