صفات باری تعالیٰ — Page 81
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى کہد و بیشک میں نافرمانوں کو عذاب الہی سے ڈرانے والا ہوں۔ہاں یادرکھواللہ کے سوا جوا کیلا از بر دست اور غالب ہے ) کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔پھر فرمایا: يَا صَاحِبَي السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (يوسف:۴۰) اے میرے قید خانہ کے رفیقو! آیا جدا جدا معبودا اچھے ہیں یا اکیلا اللہ جوز بر دست ہے۔پھر فرمایا: قُلِ اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - (الرعد: ۱۷) کہد واللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلا اور زبردست غلبہ والا ہے۔اسی طرح زمر ع ۱۔ابراہیم ع ۳۵ اور مومن ع۶ میں بھی یہ اسم قہار استعمال ہوا ہے۔جہاں بھی یہ اسم آیا ہے وہاں خدا تعالیٰ کی حکومت و جبروت اور دبدبے کا ذکر ہے اور اس کی شان مالکیت کو پیش کیا گیا ہے۔ΔΙ ۱۰۷ - الْوَاحِد تنہا ، یگانہ، یکتا۔واحد سے مراد یہ ہے کہ اس کو اجزاء اور حصص میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔احد اور واحد کے معنی ایک اور اکیلا کے ہوں گے۔وہ اپنی ذات میں احد ہے اور صفات میں واحد فرمایا: وَمَا مِنْ إِلَهِ إِلَّا اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - (ص: ۶۶) قرآن کریم میں اکثر مقامات پر آیا ہے جن میں 4 جگہ اسم القھار کے ساتھ مل کر آیا ہے۔دراصل اس طرح سے اس کی ذات کی بڑائی بیان کرنا مقصود ہے۔آنحضرت صلی سیستم اس صفت کے ظل اور مظہر اس طرح ہوئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: