صفات باری تعالیٰ — Page 79
یعنی الأسماء الحسنى ۱۰۲ - الْعَزِيزُ ۷۹ بے نظیر ، سب پر غالب۔ذرہ ذرہ پر متصرف، معزز کرنے والا۔جس کے حضور کوئی امر ناممکن نہ ہو ، جس کی قدرت میں کوئی نقص نہ ہو۔آنحضرت صلیا ایلیم کو بھی خدا تعالیٰ نے عزیز کہہ کر پکارا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج روحانیت کا بلند ترین مقام عطا فرمایا اور سب سے آگے بڑھ گئے اور خاتم النبیین کا لقب آپ کو عطا ہوا۔۱۰۳ - القُدوس تمام ان اسباب عیوب سے پاک جن کو حس دریافت کر سکے یا خیال تصور کر سکے یا وہم اس طرف جائے یا قلبی قومی سمجھ سکیں۔استثناء باب ۳۳ آیت ۲ میں آپ کو دس ہزار قدوسیوں کا سردار بتایا گیا ہے اور یہ پیش گوئی بھی فتح مکہ کے وقت پوری ہوئی۔پس خدا تعالیٰ کی صفت القدوس کے آپ مظہر تھے اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے صحابہ اور ہر مومن بھی آپ کی کامل پیروی سے قدوسیت کی چادر میں لپیٹا جاتا ہے۔۱۰۴ - اَلْمُتَكَبَر تمام مخلوقی عیوب اور مخلوق کے اوصاف سے مبرا۔تمام چھوٹے بڑوں اور ہر ایک قسم کے شرک سے اس کی ذات پاک ہے اور بلند و بالا ہے۔کمال عظمت اور بزرگی کا مالک اور مستحق۔الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: المُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ۔(الحشر: ۲۴) حق یہ ہے کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ بادشاہ ہے۔خود پاک ہے اور دوسروں کو پاک کرتا ہے۔خود ہر عیب سے سلامت ہے۔دوسروں کو سلامت رکھتا ہے۔سب کو امن دینے والا ہے اور سب کا نگران ہے غالب ہے اور سب ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتا ہے