صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 66 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 66

یعنی الأسماء الحسنى یعنی جو کچی تو بہ کرتا ہے جو ندامت میں لپٹی ہوئی ہو اور آئندہ نیکی کرنے کے پکے عزم کے ساتھ کی گئی ہو۔حقوق اللہ کی تلافی مافات اور حقوق العباد میں غفلتوں کا ازالہ اور ان پر احسان کرتے ہوئے کی جاتی ہوضرور قبول ہوتی ہے۔۷۵- تَوَّاب گناہ گاروں کی توبہ قبول کرنے والا۔رجوع برحمت کرنے والا۔تو اب مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا مادہ تو بہ ہے۔اس کے اصل معنی ہیں رجوع کرنا اور بدی سے تو بہ کا مفہوم یہ ہے کہ بدی چھوڑ کر اس کے بالمقابل نیکی اختیار کرے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی نسبت ہو تو مطلب ہوگا رجوع برحمت ہونا۔فرمایا: إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - (البقرة: ١٢٩) یه اسم دیگر اسماء کے ساتھ مل کر بھی آیا ہے۔مثلاً ۶۶ وَأَنَّ اللهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ - (النور:اا) إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ - (الحجرات: ۱۳) فرمایا إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - (النصر : ۴) اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ بار بار رجوع برحمت فرماتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے جو اس کی رحیمیت کا ایک جلوہ ہے۔۔خَيْرُ الْغَافِرِينَ جس کی مغفرت اور بخشش اور پردہ پوشی میں خیر ہی خیر ہو۔فرمایا: انتَ وَلِيْنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ (الأعراف: ۱۵۶)