صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 65 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 65

یعنی الأسماء الحسنى حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اے میرے رب مجھے اور میرے بھائی ( ہارون ) کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحیمیت میں داخل فرما اور تو تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ ایسا ہی سورہ یوسف میں فرمایا: وَاللهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرّاحِمِينَ (یوسف:۶۵) خاص حالات میں خاص جوش ہوتا ہے اور ایسے حالات میں اس کی رحمت کی وسعت پر مومن کو نظر ہوتی ہے اور وہ اسی سے اس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے۔۷۳_ الْغَافِرُ گناہوں کو بخشنے والا۔الغافر الغفور اور الغفار یہ تین اسم دراصل ایک ہی ہیں لیکن بلحاظ کمیت و کیفیت اپنے مفہوم کی جدا جدا شان رکھتے اور تین جدا جدا نام ہیں۔یہ اسم قرآن کریم میں ایک ہی مرتبہ آیا ہے فرمایا: حمَ - تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ـ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ (المومن: ۲ تا ۴) طلب مغفرت گناہوں کے بداثرات سے بچنے کے لئے بھی ہوتی ہے اور نیکیوں میں زیادہ مداومت کے حصول کے لئے بھی چنانچہ مومنوں کا استغفار ایسا ہی ہوتا ہے۔خصوصاً مومنین کے سردار حضرت رسول پاک سمایل اسلم بھی استغفار کیا کرتے تھے۔جو معصوم عن الخطا تھے اور سردار المعصومین تھے۔۷۴۔قَابِلِ التَّوْب تو بہ کو قبول کرنے والا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں کو رجوع الی اللہ کی توفیق دینے والا۔یہ صفت بھی سورۃ مومن میں ہی آیت بالا میں آئی ہے۔