صفات باری تعالیٰ — Page 67
یعنی الأسماء الحسنى تو ہمارا کارساز ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین معاف کرنے والا ہے۔ے۔ذُوْ مَغْفِرَة مغفرت کا مالک۔مغفرت کے معنے ڈھانپنے اور پردہ پوشی کے ہیں۔فرمایا: وَ انَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَ إِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ (الرعد:) ۶۷ یقینا تیرا رب اس کے بعد کہ لوگ اپنے پر ظلم کرتے ہیں، مغفرت اور رحمت کرنے والا ہے اور تیرا رب پکڑ میں بھی بڑا سخت ہے۔یوں تو وہ ذو مغفرۃ ہے لیکن جب حد سے بڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو شدید العقاب بھی ہے یہ بھی اس کی رحمت کا ہی ایک جلوہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو حد سے نہ بڑھنے دے تا کہ وہ آخرت کے عذاب شدید سے بچ جائیں۔۷۸۔ذُوْرَحْمَة رحمت کا مالک ، رحم کرنے والا۔فرمایا: وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ - (الأنعام: ۱۳۴) اور تیرا رب غنی اور صاحب رحمت ہے۔سورہ کہف میں فرمایا وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدُ لَنْ يَجِدُ وَا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا - (الكهف:۵۹) اور تیرا رب غفور اور صاحب رحمت ہے اگر وہ ان کی کرتوتوں کے باعث پکڑتا تو کبھی کا عذاب آچکا ہوتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ان کے لئے ایک میعاد مقرر ہے وہ اس سے بیچ نہ